وسعت اللہ خان کی بھارت یاترا
 

سری نگر یا چندی گڑھ
 


’کہاں جانا ہے؟‘ سری نگر۔’ کہیں اور چلا جا؟‘ کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھی پچاس پچپن سالہ لیڈی بکنگ آفیسر نے مجھے مشورہ دیا۔’ کیوں سری نگر کیوں نہیں جا سکتا؟‘ ’نہیں جا سکتا ہوں میں نے بولا نا۔‘

اگلے چار دن کی فلائٹس بک ہیں۔ بنگلور کی سیٹیں خالی ہیں وہاں چلا جا ممبئی چلا جا۔ ’بول کہاں؟‘ میں نے کہاں چندی گڑھ دیکھیے۔

اس نے کمپیوٹر سے مشورہ کیا۔ چندی گڑھ کی سیٹ مل جائے گی۔ ’بولو کر دوں؟‘ کر دو۔

اور یوں میں سری نگر کی ٹھنڈک کو دل میں بسائے لو کے تھپیڑے کھانے کے لیے چندی گڑھ میں اتر گیا۔ آج دوپہر یہاں آنے سے پہلےمجھے بس یہ معلوم تھا کہ چندی گڑھ ایک نیا نویلا شہر ہے اور پنجاب اور ہریانہ کا مشترکہ دارلحکومت ہے اور یہ کہ انیس سو بہتر میں جب ذوالفقار علی بھٹو نوے ہزار قیدی چھڑوانے کے لیے لاہور سے براستہ چندی گڑھ ہیلی کاپٹر سے شملہ گئے تھے تو اسی راستے سے واپس لاہور بھی لوٹے تھے۔ میرے ہوٹل کے کمرے میں روم سروس والے کارڈ کی پشت پر چندی گڑھ کا جوتعارف چھپا ہوا تھا۔ اس کا لبِ لباب یہ ہے کہ ہم آپ کو بھارت کے سب سے جدید ترین شہر میں خوش آمدید کہتے ہیں

اس شہر کا نقشہ بیسویں صدی کے فرانسیسی معمار لا کوربئیر نے بنایا۔ ایئرپورٹ سے آتے آتے اور پھر شام کو باہر نکل کر گھومنے کے بعد سارا کھیل میری سمجھ میں آگیا۔

اگر آپ شکر پڑیاں کی پہاڑیاں ہٹا دیں تو اسلام آباد اور چندی گڑھ میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں شہر ایک ہی جیسے رہائشی سیکٹروں کی بنیاد پر بنے ہوئے ہیں۔

ہر سیکٹر کے چار حصے ہیں اور ہر سیکٹر میں ایک بڑی سپر مارکیٹ اور چار چھوٹی مارکیٹیں ہیں۔ ہر بڑی شاہراہ کے گرد سبزے کے قطعات چھوڑے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں بھی ٹیکسی والا ایف ٹین ای نائن اور جی سکس سمجھتا ہے اور چندی گڑھ میں بھی آٹو رکشہ والا سیکٹرٹین اے ، سیکٹر سیون اور ون ون زیرو کے علاوہ کوئی اور اصطلاح مشکل سے ہی سمجھتا ہے۔
دونوں شہروں کی رونق سرکاری باغوں اور بیوروکریٹس ، خوشحال زمین داروں اور فوجی افسروں کی مرہونِ منت ہے۔ دونوں شہر صبح سات بجے جاگ جاتے ہیں اور دس بجے سو جاتے ہیں۔ فرق اگر ہے تویہ کہ چندی گڑھ کے برعکس اسلام آباد میں آٹو رکشہ دکھائی نہیں پڑتا اور لڑکیاں بڑی تعداد میں موٹر سائیکل کے بجاۓ کار چلاتی ہیں ۔البتہ دونوں شہروں کے نوجوانوں کے شوق مشترکہ ہیں۔

چندی گڑھ اگرچہ ایک صوبائی دارلحکومت ہے لیکن یہاں کے لوگوں کا رکھ رکھاؤ اور رہن سہن ایسا ہے جیسےوہ کسی وفاقی دارلحکومت کے شہری ہوں۔ جبکہ اسلام آباد اگرچہ وفاقی دارلحکومت ہے لیکن اس کی فضا صوبائی معلوم ہوتی ہے۔ جس طرح اسلام آباد پاکستان نہیں لگتا اسی طرح چندی گڑھ بھی ہریانہ اور پنجاب سے بالکل مختلف چیز ہے۔ پر ایک دفعہ دیکھنے کی چیز ضرور ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
سری نگر یا چندی گڑھ
^^ واپس اوپر واپس اوپر