روسی ٹینس سٹار ماریا شیراپووا کی پابندی میں نو ماہ کی کمی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ممنوعہ دوا کھیل میں اپنی کارکردگی بڑھانے کے لیے استعمال نہیں کی: ماریا شیراپووا

کھیلوں کی ثالثی عدالت نے روس سے تعلق رکھنے والی ٹینس کی کھلاڑی ماریا شیراپووا کی اپیل پر ان کے عائد کی گئی دو سالہ پابندی کی مدت کم کر کے 15 ماہ کر دی ہے۔

پانچ مرتبہ گرینڈ سلام مقابلے جیتنے والی 29 سالہ ماریا پر ایک ممنوعہ دوا کے استعمال کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی تھی۔

٭ 'مثبت ڈرگ ٹیسٹ کی ذمہ داری قبول کرتی ہوں'

رواں برس جنوری میں ان کا آسٹریلین اوپن کے دوران میلڈونیم نامی دوا کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے ان پر دو سال کی پابندی لگا دی تھی۔

خیال رہے کہ مذکورہ دوا پر جنوری 2016 میں پابندی لگائی گئی تھی۔

ماریا شراپوا کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ دوا کھیل میں اپنی کارکردگی بڑھانے کے لیے استعمال نہیں کی۔

روس نے اپنی کھلاڑی پر پابندی کے خلاف اپیل کی تھی۔ روس کا مؤقف ہے کہ ماریا یہ دوا صحت کے مسائل کی وجہ سے سنہ 2006 سے استعمال کر رہی ہیں۔

پابندی کے خاتمے کے بعد ماریا 26 اپریل 2017 سے دوبارہ انٹرنیشنل ٹینس کھیل سکیں گی۔

ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد انھوں نے کہا ہے کہ وہ اپنی ٹینس کورٹ میں واپسی کے لیے دن گن رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھ سے ایک ایسی چیز چھین لی گئی ہے جو مجھے بہت پیاری تھی اور اس کی واپسی ایک بہت اچھی بات ہو گی۔ ٹینس میری جان ہے اور میں اسے بہت یاد کرتی ہوں۔‘

اسی بارے میں