حضور! آپ بھی کچھ سیکھیے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ابوظہبی میں اظہر علی کلین سوئپ مکمل کر کے ٹیم کو رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر لے آئے

’اظہر علی ان سب کو شٹ اپ کال دے رہے ہیں جنہوں نے ان پہ سوالات اٹھائے ہیں۔‘

یہ الفاظ تھے کمنٹری باکس میں موجود سر ویوین رچرڈز کے، جب اظہر علی گیبرل اور جوزف کی تیز رفتار گیندوں پر خوبصورت سٹروکس کھیل رہے تھے۔

کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ سر ویوین رچرڈز کو پاکستانی کپتان کی فارم کی تعریف کرنے کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال کرنا پڑا؟

2009 کے بعد پاکستان کرکٹ نے کڑا وقت دیکھا۔ ہوم گراؤنڈز کی ویرانی اور سپاٹ فکسنگ سکینڈل سے بھی شاید پاکستان کرکٹ کو اس قدر تکلیف نہ ہوئی ہو گی جتنی کچھ تبصروں سے ہوئی۔

سوال یہ تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان کیسا ہونا چاہیے؟

مبصرین کا خیال تھا کہ ایک ایسا کپتان ایجاد کیا جائے کہ جس کے گراؤنڈ میں اترتے ہی مخالف ٹیم کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں اور ٹھنڈے پسینے بہنے لگیں۔ ایک اٹیکنگ کپتان لایا جائے جو اپنے دماغ کو ڈریسنگ روم میں کسی کے پاس امانتاً رکھوا کر گراؤنڈ میں اترے اور صرف دل سے کھیلے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بابر اعظم نے تینوں ایک روزہ میچوں میں سنچری سکور کی

کیا جینٹل مین کی گیم کہلانے والی کرکٹ کے مطابق پاکستان کو ایسا کپتان چاہیے تھا؟

کیا ایک ایسا کپتان نہیں چاہیے جو مشروبات کے اشتہارات میں ماڈلنگ سے زیادہ توجہ کرکٹ پہ دے سکے؟ جو آن فیلڈ سنسنی خیز لمحات میں فائر بریگیڈ کی گاڑی بننے کی بجائے اعصاب سے کام لے۔

ویسٹ انڈیز کی سیریز شروع ہونے سے پہلے بھی اظہر علی کی برطرفی کے سماجی بہبود پہ اثرات اور مابعد الطبیعیاتی فوائد پہ روشنی ڈالی گئی۔

اس سارے شورو غوغا میں ایک وسیم اکرم کی آواز تھی کہ اظہر علی کو کپتان برقرار رکھنا پاکستان کرکٹ کے لیے بہتر ہے۔

اس رائے کی عملی حیثیت بھی ثابت ہو گئی جب ابوظہبی میں اظہر علی کلین سوئپ مکمل کر کے ٹیم کو رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر لے آئے۔

سر ویوین رچرڈز کے الفاظ میں گویا اظہر علی کی یہ اننگز ان تمام تبصروں کا جواب تھی۔ پہلے دو ون ڈے جیتنے کے بعد جب کہ پاکستان سیریز جیت چکا تھا، اظہر کے بارے میں اگر خبر بنی بھی تو کیسی:

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آخری چار میچوں میں یہ تیسرا موقع ہے کہ پاکستان نے تین سو یا زائد رنز سکور کیے ہیں

’اظہر علی کا فلاپ ہونا ٹیم کے لیے نیک شگون۔ رنز کریں تو ٹیم ہار جاتی ہے، نہ کریں تو جیت جاتی ہے۔‘

پاکستان کرکٹ کا اصل دکھ جاننا ہو تو بابر اعظم کی ان تین سینچریوں کا سوچیے کہ اگر یہ ریکارڈ لاہور میں بنا ہوتا تو بابر اعظم کیسا مستقبل اپنے سامنے دیکھتے؟

عماد وسیم اگر راولپنڈی میں ویسٹ انڈیز کو تگنی کا ناچ نچا رہے ہوتے تو ان کو اپنی محنت کا کیسا صلہ سٹیدیم میں دکھائی دیتا؟

تجزیہ کرنا ہے تو کھیل کی بنیاد پہ کیجیے، تکنیک کی بات کہیے، فارم اور فٹنس کی بات کیجے۔ آپ کی تمام تر خامہ فرسائیوں کے باوجود اگر یہ ٹیم ایسی شاندار پرفارمنس دے سکتی ہے تو سوچیے آپ کی تائید حاصل ہونے پہ کیا نہیں کر سکتی۔

حضور! اسی ٹیم سے کچھ سیکھ لیجیے جو آپ کی تنقید کے وار سہہ کر بھی چپکے سے اپنا کام کیے جاتی ہے۔ اگر کھیل سے محبت ہے تو کھلاڑی سے نفرت کاہے کی؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں