بی سی سی آئی کے لیے’کرو یا مرو‘ کی صورتحال

بی بی سی آئي
،تصویر کا کیپشن

سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی سے کہا تھا کہ وہ جسٹس لوڈھا کی قیادت والی کمیٹی کی سفارشات کو پوری طرح سے نافذ کرے۔ اس کمیٹی کی سفارشات میں یہ بھی شامل ہے کہ کرکٹ بورڈ کے حکام کے عہدہ سنبھالنے کی معیاد بھی طے ہونی چاہیے

بھارتی سپریم کورٹ نے انڈین کرکٹ بورڈ، بی بی سی آئی، کو ہدایت دی تھی کہ وہ لودھا کمیشن کی سفارشات نافذ کرے جبکہ بورڈ کا موقف ابھی واضح نہیں ہے لیکن اس کے لیے یہ ’کرو یا مرو‘ کی صورت حال ضرور ہے۔

عدالت میں ہونے والی طویل بحث کے بعد سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی سے کہا تھا کہ وہ جسٹس لودھا کی کمیٹی کی سفارشات کو پوری طرح سے نافذ کرے۔

اس کمیٹی کی سفارشات میں یہ بھی شامل ہے کہ کرکٹ بورڈ کے حکام کے عہدہ سنبھالنے کی معیاد بھی طے ہونی چاہیے۔

ان سفارشات میں 'ایک شخص ایک پوسٹ' اور ہر ریاست کو برابر ووٹ دینے کی بات بھی کی گئی ہے لیکن انڈین کرکٹ بورڈ، بی سی سی آئی، نے ان سفارشات کو نافذ نہیں کیا۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اگر بی سی سی آئی خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے تو یہ قطعی غلط ہے۔

سوال یہ ہے کہ اب آخر یہ پورا معاملہ کیا رخ اختیار کر رہا ہے؟ بی بی سی کے نامہ نگار ونیت کھرے نے اس بارے میں انڈيا میں کھیلوں کے سینیئر صحافی اياز میمن سے بات کی۔

،تصویر کا کیپشن

سپریم کورٹ بی سی سی آئی سے بہت خفا ہے اور اگر اس کا کوئی حکم آتا ہے تو سپریم کورٹ خود بورڈ کا ایک غیر جانبب دار مینیجر مقرر کر سکتی ہے

ایاز میمن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ بی سی سی آئی سے بہت خفا ہے اور اگر اس کا کوئی حکم آتا ہے تو سپریم کورٹ خود بورڈ کا ایک غیر جانبدار مینیجر مقرر کر سکتی ہے۔ اگر بی سی سی آئی یعنی بورڈ منسوخ ہو جاتا ہے تو پھر سبھی کو اپنے عہدوں سے ہٹنا پڑے گا۔

ایاز میمن کے مطابق کرکٹ کے بہت بڑے سیزنز آنے والے ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف انڈيا کا ٹور ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف بھی ایک سیریز ہونی ہے جبکہ انڈیا نیوزی لینڈ کے درمیان سیریز ابھی جاری ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ کرکٹ بند ہو جائے گی، کرکٹ تو جاری ہی رہے گي لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کس طرح سے کریں گے۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ بی سی سی آئی کے عہدے مالی فائدے کے لیے ہوتے ہیں یا پھر صرف طاقت کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں؟ اگر آپ پروفیشنل لانا چاہتے ہیں تو کیا آپ نظام پر نظر ثانی کریں گے؟ کیا پھر لوگوں کو پیسے دیے جائیں گے؟ یہ سب مسئلے اتنے آسان نہیں ہیں۔

ایاز میمن کا کہنا ہے اگر کرکٹ بورڈ نے خود ہی اپنے اندر صفائی کر لی ہوتی تو عدالت کو اس طرح کے اقدامات نہیں کرنے پڑتے۔

ان کے بقول اگر 2013 میں آئی پی ایل کے تنازع کے بعد بی سی سی آئی خود ہی اس کی تحقیقات کر لیتی اور تحقیقات کر کے قصورواروں کے خلاف کارروائی کرتی تو معاملہ عدالت کے پاس نہیں جاتا۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن

حکمراں جماعت بی جے پی کے رہنما انوراگ ٹھاکر آج کل بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر ہیں

لیکن بی سی سی آئی نے یہ پوزیشن لی کہ وہ کوئی غلطی کر ہی نہیں سکتی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا آدمی شامل ہی نہیں ہے، اور اگر ہے تو کسی اور کی غلطی ہے۔ ایسے ہی معاملہ بڑھتا گیا اور سپریم کورٹ پہنچ گیا۔

عدالت میں یہ کیس طویل وقت تک رہا کیونکہ بی سی سی آئی کے موقف میں تسلسل اور ہم آہنگی نہیں تھی۔

ایاز میمن کے مطابق انڈین کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کے سامنے ماضی میں کئی مسائل رہے ہیں لیکن ایسی صورت حال کبھی نہیں آئی تھی۔

اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ بی سی سی آئی کہتی آئی ہے کہ وہ ایک سوسائٹی ہے۔ ایک ڈیڑھ برس پہلے تک عدالت کا بھی یہی موقف تھا۔

لیکن اس بار عدالت نے کہا کہ آپ سوسائٹی تو ہیں لیکن یہ قوم کے مفاد کا معاملہ بن چکا ہے۔ یہ صرف بی سی سی آئی کا معاملہ نہیں رہا۔ اس وقت یہ سب سے اہم اور اصل تبدیلی ہے۔

کرکٹ بورڈ کی اس مسئلے سے پر اجلاس ہو رہے ہیں اور اب دیکھنا یہ ہے کہ بورڈ کیا موقف اختیار کرتا ہے۔ اس کے لیے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرتا ہے تو بورڈ میں شامل بہت سے عہدے داروں کو عہدے چھوڑنے ہوں گے اور اگر نہیں تو پھر عدالت خود ہی کارروائی کرکے بورڈ کو منسوخ کر سکتی ہے۔

جمعے کے روز بورڈ کی میٹنگ کے بعد حالات کچھ واضح ہو سکتے ہیں۔