چین کی شام کے ہاتھوں شکست، فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر کے استعفے کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

فٹ بال ورلڈ کپ کوالیفائنگ میچ میں شام کے ہاتھوں شکست کے بعد چینی مداحوں نے چین کی فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعرات کو چین کے شہر شیان میں کھیلے جانے والے میچ میں شام کی ٹیم نے چین کو ایک صفر سے شکست دی۔

یاد رہے کہ چین نے گذشتہ سال کہا تھا کہ چین فٹ بال کی سپر پاور بننا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔

تاہم شام کے ہاتھوں شکست کا مطلب ہے کہ چین روس میں ہونے والے 2018 ورلڈ کپ میں حصہ شاید نہیں لے سکے گا۔ چین کا مقابلہ 11 اکتوبر کو ازبکستان کے ساتھ ہو گا جس میں اس بات کا فیصلہ ہو گا کہ آیا وہ ورلڈ کپ میں حصہ لے سکے گا یا نہیں۔

اس وقت عالمی فٹ بال رینکنگ میں چین 78 ویں نمبر پر ہے جبکہ شام 114 ویں نمبر پر۔

کھیلوں کی ویب سائٹ ٹینسیٹ کے مطابق میچ کے بعد سٹیڈیم کے باہر سڑکوں پر لوگوں کا بڑا ہجوم جمع ہو گیا اور چین کی فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں لوگ ’استعفیٰ، استعفیٰ استعفیٰ‘ چلا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شام کے کھلاڑی محمود گول کرنے کے بعد جشن مناتے ہوئے

آن لائن پر چینی عوام نے اپنی ٹیم کی کارکردگی پر کافی تنقید کی۔ مائیکو بلاگنگ سائٹ ویبو پر ایک صارف نے لکھا ’شامی فٹ بال ٹیم نے یہ ثابت کر دیا کہ ہماری ٹیم مضبوط اور فاتح نہیں ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا ’کیاخیال ہے کہ ہم ٹیبل ٹینس دیکھیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ روئیں گے نہیں۔‘

ایک اور صارف نے ٹیم کی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’میں اپنا منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔‘

ایک اور صارف نے ٹیم کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’شام جہاں خانہ جنگی جاری ہے جو جوتے اور ٹی شرٹ نہیں خرید سکتے اور جس کے مینیجر کی تنخواہ محض دو ہزار یوآن ہے نے چین کی ٹیم کو ہرا دیا جس کے کھلاڑی لاکھوں کماتے ہیں۔‘

شام میں خانہ جنگی کے باعث شام کی ٹیم اپنے ہوسٹ میچ عمان میں کھیلتی ہے۔

رواس سال کے اوائل میں چین نے 2050 تک ’ورلڈ فٹ بال سپر پاور‘ بننے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ چین کے صدر جو فٹ بال میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ چین کی ٹیم اگلے 15 سالوں میں فٹ بال ورلڈ کپ جیتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں