ہم جو کرکٹ آج دیکھ رہے ہیں یہ حقیقی ویسٹ انڈین کرکٹ نہیں ہے: اینڈی رابرٹس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ویسٹ انڈیز کے عظیم فاسٹ بولر سر اینڈی رابرٹس ویسٹ انڈین کرکٹ کی موجودہ صورتحال سے سخت مایوس دکھائی دیتے ہیں اور انھوں نے اس کا ذمہ دار کرکٹ بورڈ سے زیادہ اپنے کرکٹرز کو قرار دیا ہے۔

سر اینڈی رابرٹس نے کراچی میں بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ انھیں ویسٹ انڈین کرکٹ کی موجودہ حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کیونکہ 'ہم جو کرکٹ آج دیکھ رہے ہیں یہ حقیقی ویسٹ انڈین کرکٹ نہیں ہے'۔

پنسٹھ سالہ سراینڈی رابرٹس نے کہا کہ آج کا ویسٹ انڈین کرکٹر اس محنت لگن اور جذبے سے نہیں کھیل رہا ہے جو ویسٹ انڈین کرکٹ کی پہچان رہی ہے۔ پیسہ کمانے میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن کرکٹرز کو اپنے ملک کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور ملک نے جو کچھ انہیں دے دیا ہے وہ اسے لوٹانا ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں 202 اور ون ڈے انٹرنیشنل میں 87 وکٹیں حاصل کرنے والے سراینڈی رابرٹس کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کو ویسٹ انڈین ایڈمنسٹریٹرز کی شکست نہیں سمجھتے بلکہ اس میں زیادہ قصور کرکٹرز کا ہے جنھوں نے اپنے کھیل کو بلند مقام تک لے جانے میں محنت نہیں کی ہے۔ کچھ بننے کے لیے دوسرے پر انحصار نہیں کیا جاتا خود قربانی دینی پڑتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Adrian Murrell/Allsport

سر اینڈی رابرٹس پاکستانی کرکٹ اور پاکستانی کرکٹرز کے زبردست مداح ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے کریئر میں پاکستان کے خلاف کھیل کر ہمیشہ مزا آیا کیونکہ دونوں ٹیموں کے درمیان ہمیشہ سخت مقابلے ہوا کرتے تھے۔ انھوں نے متعدد پاکستانی کھلاڑیوں کے نام گنواتے ہوئے کہا کہ اس دور میں پاکستان کے پاس کئی عظیم کرکٹرز تھے۔

سر اینڈی رابرٹس نے ظہیرعباس کو اپنا پسندیدہ بیٹسمین قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگ ان کے بارے میں بہت زیادہ بات نہیں کرتے لیکن ظہیر عباس ایک عظیم بیٹسمین تھے جن کی بیٹنگ کا انداز ویسٹ انڈین بیٹسمینوں کی طرح جارحانہ تھا۔ ان کی عظمت کا ثبوت فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کی سو سے زیادہ سنچریاں ہیں۔

انھوں نے فاسٹ بولر سرفراز نواز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کی بولنگ تیز رفتار نہیں تھی لیکن انھیں سوئنگ پر کمال مہارت حاصل تھی۔

سر اینڈی رابرٹس کہتے ہیں کہ انھیں 41 سال بعد پاکستان دوبارہ آکر خوشی ہوئی ہے۔ 1975 کے دورے کی یادیں آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں اس وقت وہ نوجوان تھے اور وہ کچھ کردکھانے کے لیے پرجوش تھے۔ کراچی ٹیسٹ شائقین کی ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا تھا لیکن انہیں لاہور ٹیسٹ کھیل کر مزا آیا تھا جس میں انھوں نے نو وکٹیں حاصل کی تھیں۔

سر اینڈی رابرٹس نے ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کے بارے میں کہا کہ اس وقت ہر کوئی مصروف ہے اس کے پاس پہلے جیسا وقت نہیں ہے کہ وہ کام کاج چھوڑ کر ٹیسٹ میچ دیکھے لہٰذا اگر ٹیسٹ میچ رات کو بھی کھیلا جاتا ہے تو لوگ اسے دیکھنے آسکتے ہیں لیکن ڈے نائٹ ٹیسٹ سے روایتی ٹیسٹ کرکٹ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں