ٹیسٹ میچ میں گلابی گیند پاکستانی کرکٹرز کا امتحان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اظہرعلی کو فرسٹ کلاس کرکٹ میں گلابی گیند کے ساتھ کھیلنے کا تجربہ ہے

پاکستانی کرکٹرز گلابی گیند کے بارے میں خاصے پرجوش دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ گلابی گیند پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جمعرات سے دبئی میں شروع ہونے والے ڈے نائٹ ٹیسٹ میں استعمال ہوگی۔

پاکستان کے ٹیسٹ نائب کپتان اظہر علی کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں وہ ایک دو میچ گلابی گیند سے کھیل چکے ہیں لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں گلابی گیند سے کھیلنے کا پاکستانی کرکٹرز کا یہ پہلا موقع ہے اس لیے یہ ایک مختلف چیلنج بھی ہے لیکن تمام کھلاڑی اس بارے میں پرجوش بھی ہیں اور یقیناً یہ شائقین کے لیے بھی اچھا تجربہ ثابت ہوگا۔

اظہرعلی کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹرز اپنے ٹریننگ سیشن میں گلابی گیند کے ساتھ پریکٹس کر رہے ہیں اور کوچنگ سٹاف کے ساتھ مختلف پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا ہے کہ گلابی گیند کا رویہ مختلف اوقات میں کیا ہوگا خاص کر جب گیند پرانی ہو جائے گی تو وہ کس طرح کھیلے گی نئے بیٹسمین کے لیے کتنی مشکل ہوگی اور رات کے وقت وہ کتنا سوئنگ کرے گی۔

اظہر علی کا کہنا ہے کہ جب آپ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے ہیں تو اس میں رونما ہونے والی تمام تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونا پڑتا ہے اور ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ اور گلابی گیند انہی میں شامل ہیں جن پر کھلاڑیوں کو جتنا جلد ممکن ہو سکے دسترس حاصل کرنی ہوگی۔

اظہر علی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور دوسرے کرکٹ بورڈز اب بڑی تعداد میں اپنے ڈومیسٹک میچوں میں گلابی گیند استعمال میں لا رہے ہیں جس سے کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان پہلی بار گلابی گیند سے کھیلے گا

اظہرعلی کو فرسٹ کلاس کرکٹ میں گلابی گیند کے ساتھ کھیلنے کا تجربہ ہے لیکن ان کے ساتھی بیٹسمین اسد شفیق کو اب تک گلابی گیند سے کھیلنے کا کوئی موقع نہیں مل سکا ہے۔

اسد شفیق کا کہنا ہے کہ گلابی گیند اگرچہ ٹھیک نظر آ رہی ہے لیکن گیند کی سلائی کے سلسلے میں انہیں پریشانی ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عام سرخ گیند کی سلائی سفید ہے لیکن گلابی گیند کی سلائی سیاہ ہے جس کی وجہ سے انہیں مشکل ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں