دبئی ٹیسٹ کے پہلے دن پاکستان کی عمدہ بیٹنگ، ایک وکٹ پر 279 رنز

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں کھیلے جانے والے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے دن کے اختتام پر پہلی اننگز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 279 رنز بنا لیے ہیں۔

پہلے دن کے اختتام پر اظر علی 146 اور اسد شفیق 33 رنز پر کھیل رہے تھے۔

پاکستان کی جانب سے سمیع اسلم اور اظہر علی نے اننگز شروع کی اور ٹیم کو 215 رنز کا عمدہ آغاز فراہم کیا۔

215 کے سکور پر سمیع اسلم 90 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ ان کی جگہ اسد شفیق بیٹنگ کے لیے آئے۔

٭ تفصیلی سکور کارڈ

٭ ’ٹیم کی سب سے بڑی خوبی خود اعتمادی ہے‘

٭ مستقبل نائٹ کرکٹ اور گلابی گیند کا ہے

ٹاس سے قبل مصباح الحق نے کہا تھا کہ وہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کریں گے کیونکہ وکٹ پہلے بیٹنگ کے لیے سازگار ہے اور جیسے جیسے وقت گزرے گا وکٹ سلو ہوتی جائے گی اور سپنرز کو مدد دے گی۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک روزہ سیریز کے تینوں میچوں میں سنچریاں بنانے والے بابراعظم اور لیفٹ آرم سپنر محمد نواز اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ٹیسٹ میچ کھیلے گی اور ٹی 20 اور ون ڈے میں وائٹ واش کے بعد ٹیسٹ سیریز میں بھی فیورٹ سمجھی جا رہی ہے۔

پاکستانی ٹیم کا یہ 400 واں ٹیسٹ میچ ہے اور یہ ٹیسٹ اس لحاظ سے بھی تاریخی ہے کہ یہ پاکستان کا پہلا ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ ہو گا جو گلابی گیند سے کھیلا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty

پاکستان نے اب تک کھیلے گئے 399 ٹیسٹ میچوں میں 128 جیتے ہیں، 113 میں اسے شکست ہوئی ہے اور 158 ٹیسٹ بےنتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔

اس سے قبل آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان گذشتہ سال ایڈیلیڈ میں دنیا کا پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ کھیلا گیا تھا جس میں گلابی گیند استعمال ہوئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کو قابو کرنے کے لیے اپنے فتح گر بولر یاسر شاہ پر انحصار کرے گی۔ یاسر شاہ 16 ٹیسٹ میچوں میں 95 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں اور اب ان کی نظر اپنی وکٹوں کی سینچری پر ہے۔

پاکستان ٹیم: سمیع اسلم، اظہر علی، بابر اعظم، مصباح الحق، اسد شفیق، سرفراز احمد، محمد نواز، وہاب ریاض، یاسر شاہ، محمد عامر اور سہیل خان۔

ویسٹ انڈیز ٹیم: کے سی بریتھ ویٹ، ایل آر جانسن، براوو، ایم این سیمیولز، جے بلیک وڈ، آر ایل چیز، ایس او ڈورچ، جے او ہولڈر، ڈی بشو، ایم ایل کمنز اور ایس ٹی گیبریئل۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں