پاکستان کی پوری ٹیم 123 رنز پر آؤٹ، ویسٹ انڈیز کا ہدف 346 رنز

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ویسٹ انڈیز کی جانب سے لیگ سپنر بھشو نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا

دبئی میں پہلے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیتنے کے لیے 346 رنز کا ہدف دیا ہے جس کے جواب میں ویسٹ انڈیز نے دو وکٹوں کے نقصان پر 95 رنز سکور کیے ہیں۔

گرنے والی دونوں وکٹیں محمد عامر نے حاصل کیں۔

٭ میچ کا تفصیلی سکور کارڈ دیکھنے کے لیے کلک کریں

پہلی اننگز کے دونوں کامیاب بیٹسمین ڈیرن براوو اور مارلن سیمیولز کریز پر موجود ہیں اور ویسٹ انڈیز کو آخری دن جیت کے لیے مزید 251 رنز بنانے ہیں۔

چوتھا دن اس ٹیسٹ کا سب سے دلچسپ اور ڈرامائی دن ثابت ہوا جس میں مجموعی طور پر16 وکٹیں گریں۔

پہلے ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز میں چار وکٹیں گریں اس کے بعد پاکستانی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں صرف 123 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

دیویندرا بشو نے اپنے کریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 49 رنز دے کر8 وکٹیں حاصل کیں۔ اس طرح میچ میں انھوں نے دس وکٹیں حاصل کیں۔

ویسٹ انڈیز نے اپنی پہلی اننگز 315 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی لیکن یاسر شاہ کی عمدہ بولنگ نے اس کی بساط 357 رنز پر لپیٹ دی۔ اسے فالوآن پر مجبور ہونا پڑا لیکن کپتان مصباح الحق نے فالوآن نہیں کرایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اظہر علی اور سمیع اسلم نے پاکستان جانب سے دوسری اننگز کا آغاز کیا

یہ چوتھا موقع ہے کہ مصباح الحق نے حریف ٹیم کو فالوآن نہیں کرایا اور دوبارہ بیٹنگ کو ترجیح دی۔

یاسر شاہ نے 121 رنز دے کر5 وکٹیں حاصل کیں اور ٹیسٹ میچوں میں اپنی سو وکٹیں بھی مکمل کرلیں۔

یہ ان کا 17 واں ٹیسٹ ہے۔ ان کے علاوہ آسٹریلیا کے کلیری گریمیٹ، چارلی ٹرنر اور انگلینڈ کے سڈنی بارنز نے بھی 17 ویں ٹیسٹ میں وکٹوں کی سنچری مکمل کی تھی۔

سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں سو وکٹیں مکمل کرنے کا ریکارڈ انگلینڈ کے جارج لوہمین کا ہے جنہوں نے یہ سنگ میل 16 ویں ٹیسٹ میں عبور کیا تھا۔

یاسر شاہ نے چوتھے دن کے چوتھے اوور میں ڈاؤرچ کو 32 کے انفرادی سکور پر ایل بی ڈبلیو کردیا۔

کپتان جیسن ہولڈر 20 رنز بناکر یاسر شاہ کی گیند پر بولڈ ہوئے جنہوں نے اپنے اگلے اوور میں کمنز کو صفر بولڈ کرکے سو وکٹیں مکمل کرلیں۔

محمد نواز نے دیویندرا بشو کو 17 رنز پر بولڈ کرکے ویسٹ انڈیز کی اننگز تمام کردی۔

پہلی اننگز میں 222 رنز کی اہم برتری حاصل کرنے کے بعد پاکستانی ٹیم نے دوسری اننگز شروع کی تو اسے تمام وقت بشو کی غیرمعمولی سپن بولنگ کے سامنے مشکلات کا سامنا رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یاسر شاہ نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 100 وکٹیں بھی اسی میچ میں مکمل کیں

اظہرعلی کو دو رنز پر گیبریئل نے ایل بی ڈبلیو کردیا۔

صرف ایک گیند پہلے اظہرعلی وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ قرار پائے تھے لیکن ریویو نے یہ فیصلہ غلط ثابت کردیا۔ تاہم اگلی ہی گیند پر اظہرعلی اپنی وکٹ نہ بچاسکے۔

اسد شفیق پانچ رنز بناکر بشو کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

سمیع اسلم اور بابراعظم نے تیسری وکٹ کے لیے 57 رنز کا اضافہ کیا۔ بابراعظم 21 رنز بناکر بشوکی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

بابراعظم کو دو چانس ملے دو کے سکور پر گیبریئل نے کمنز کی گیند پر ان کا کیچ گرادیا جبکہ چار کے سکور پر وہ وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ ہوئے لیکن کمنز کی گیند نوبال ہوگئی۔

سمیع اسلم کی 44 رنز کی اننگز کا خاتمہ بلیک ووڈ نے بشو کی گیند پر کیچ لے کر کیا اس کے بعد وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

مصباح الحق15 سرفراز 15 اور محمد نواز بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی آخری 7 وکٹیں اسکور میں صرف 30 رنز کا اضافہ کرسکیں۔

بشو کی 49 رنز کے عوض8 وکٹوں کی یہ کارکردگی ایشیا میں کسی بھی مہمان ٹیم کے بولر کی سب سے بہترین بولنگ ہے ۔ اس سے قبل جنوبی افریقہ کے لانس کلوسنر نے ایڈن گارڈنز کولکتہ میں64 رنز دے کر8 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں