ابوظہبی ٹیسٹ: پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے گرد گھیرا تنگ کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اظہر علی اور سمیع اسلم نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 93 رنز بنائے

ابوظہبی میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے مہمان ٹیم ویسٹ انڈیز کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔

اتوار کو میچ کے تیسرے دن کھیل کے اختتام پر پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 114 رنز بنا کر مجموعی برتری 342 رنز تک پہنچا دی ہے اور اس کی 9 وکٹیں ابھی باقی ہیں۔

جب کھیل کا اختتام ہوا تو اظہرعلی 52 اور اسد شفیق پانچ رنز پر کھیل رہے تھے۔

اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 224 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔ 228 رنز کی سبقت حاصل ہونے کے باوجود کپتان مصباح الحق نے فالو آن کے بجائے دوبارہ بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ویسٹ انڈیز نے اپنی پہلی اننگز 106 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی تو پاکستان کو پہلی کامیابی کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔

ساتویں اوور میں راحت علی نے وکٹ کیپر سرفراز احمد کی مدد سے آٹھ رنز بنانے والے بلیک وڈ کو پویلین کی راہ دکھائی۔

بشو جنھوں نے 20 گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد پہلا رن بنایا آسانی سے پاکستانی بولرز کے قابو میں آنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کی 66 گیندوں پر 20 رنز کی اننگز کا خاتمہ سہیل خان نے انھیں بولڈ کر کے کیا۔

یاسر شاہ نے نئی گیند کے ساتھ بولنگ کرتے ہوئے روسٹن چیس کو سلپ میں اسد شفیق کے ہاتھوں کیچ کرا دیا جو 22 رنز بنا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ویسٹ انڈیز کو سب سے زیادہ پریشانی سے دوچار کرنے والے لیگ سپنر یاسر شاہ تھے

صرف نو رنز کے اضافے پر یاسر شاہ کے دوسرے مہلک وار نے 11 رنز بنانے والے شائے ہوپ کی وکٹ حاصل کر ڈالی۔

کپتان جیسن ہولڈر کی مزاحمت طول نہ پکڑ سکی اور انھوں نے اپنے سامنے کمنز اور گیبریئل کی وکٹیں گرتے دیکھیں جو بالترتیب تین اور 13 رنز بنا سکے۔

جیسن ہولڈر چار چوکوں کی مدد سے 31 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

ویسٹ انڈیز کو سب سے زیادہ پریشانی سے دوچار کرنے والے لیگ سپنر یاسر شاہ تھے جنھوں نے 86 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔

راحت علی ایک بار پھر اپنے کپتان کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے تین اہم وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

سہیل خان نے دو بیٹسمینوں کو پویلین کا راستہ دکھایا۔

مصباح الحق نے مسلسل دوسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو فالو آن نہیں کرایا۔ انھوں نے مجموعی طور پر پانچ بار حریف ٹیم کو فالو آن نہیں کرایا ہے۔

پہلی اننگز کی 228 رنز کی اہم برتری اپنے کھاتے میں جمع کر کے پاکستانی ٹیم نے سمیع اسلم اور اظہرعلی کے ذریعے دوسری اننگز شروع کی تو دونوں سکور کو 93 تک لے گئے۔

اس دوران امپائر مائیکل گف کے لیے صورتحال خاصی مشکل رہی، جن کے دو فیصلے ریویو لیےجانے کے نتیجے میں غلط ثابت ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کریگ بریتھ ویٹ کی بولنگ پر دو بار پاکستانی اوپنرز کو تھرڈ امپائر نے ناٹ آؤٹ قرار دیا

مائیکل گف نے اظہرعلی کو دس کے انفرادی سکور پر کریگ بریتھ ویٹ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو دے دیا لیکن ریویو سے پتہ چلا کہ گیند اظہرعلی کے گلوو پر لگی تھی۔

مائیکل گف نے سمیع اسلم کو بھی 12 کے انفرادی سکور پر کریگ بریتھ ہی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ دے دیا لیکن ڈی آر ایس کا فائدہ ایک بار پھر پاکستان کو ملا اور مائیکل گف کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کا اشارہ کرنا پڑا۔

دوسرے دن بھی براوو اور سیمیولز کے خلاف ان کے دو فیصلے غلط ثابت ہوئے تھے۔

سمیع اسلم کی اننگز بھی ریویو کے ذریعے ختم ہوئی جب رچرڈ النگورتھ نے انھیں 50 کے انفرادی سکور پر وکٹ کیپر ہوپ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ نہیں دیا لیکن ریویو لیے جانے پر تھرڈ امپائر کا فیصلہ النگورتھ کے خلاف رہا۔

اس ٹیسٹ میں اب تک مائیکل گف کے چار اور رچرڈ النگورتھ کے تین فیصلے غلط ثابت ہوچکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں