بزرگوں کا ساتھ چھوٹتے ہی کشتی ڈولنے نہ لگے!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کو ایسے پلئیرز تیار کرنے کی ضرورت ہے جو مصباح اور یونس کی عدم موجودگی میں ٹیم کو سنبھال سکیں

فرض کیجیے کہ اگر مصباح الحق اور یونس خان تیسرے ٹیسٹ میں ٹیم کو دستیاب نہ ہوں؟

تو تیسرے ٹیسٹ میں کیا ہو گا؟ پاکستان جیتے گا؟ یا بمشکل ڈرا کرے گا؟ یا ویسٹ انڈیز بمشکل جیتے گا؟

یہ ایک مفروضہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے اور ہم اپنی ٹیم کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی جواب بھی وثوق سے نہیں دے سکتے۔

پاکستان کی 133 رنز سے جیت ، یاسر ایک بار پھر فتح گر

’یونس خان نائنٹیز میں نروس نہیں ہوتے‘

مصباح اور یونس گذشتہ چھ سال سے مڈل آرڈر کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان کی موجودگی میں پاکستان نے دو بار چوتھی اننگز میں 300 سے زائد کا ہدف عبور کیا، انگلینڈ اور آسٹریلیا کو کلین سویپ کیا، رینکنگ میں پہلی بار ٹیسٹ چیمپئین بنا۔

صرف پچھلے میچ میں یونس خان نہیں تھے تو دوسری اننگز میں پاکستان 123 پہ ہی ڈھیر ہو گیا تھا۔ سوچیے اگر اظہر علی پہلی اننگز میں ٹرپل سینچری نہ کرتے تو کیا ہوتا؟

اچھی ٹیمیں اچھی جوڑیوں سے بنتی ہیں۔ وسیم وقار کی جوڑی جب اٹیک کرتی تھی تو کسی بھی ٹیم کے پیروں تلے سے زمین نکل جاتی تھی۔

گنگولی اور ٹنڈولکر کی جوڑی جب کریز پر ہوتی تھی تو فیلڈنگ کیپٹن کے اعصاب جواب دینے لگتے تھے۔ سنگاکارا اور جے وردھنے جب کریز پہ ہوتے تھے تو سری لنکن ڈریسنگ روم میں راوی چین لکھتا تھا۔

اور لازم نہیں کہ ایسی جوڑیاں صرف بلے بازوں یا صرف بولرز پہ ہی مشتمل ہوں۔ ویو رچرڈز اور جوئل گارنر نے اپنے اپنے شعبے میں مہارت سے ویسٹ انڈیز کو ایک ناقابل شکست ٹیم بنا دیا تھا۔ ان دونوں کی موجودگی میں ویسٹ انڈیز نے مسلسل 11 ٹیسٹ جیتنے کا ریکارڈ بنایا تھا۔

ویسٹ انڈیز کی موجودہ ٹیم میں ایسی کوئی جوڑی نہیں۔ براوو اور سیموئلز ایسی جوڑی بن سکتے ہیں مگر ابھی تک بن نہیں پائے اسی لیے ان کی ٹیم منجدھار میں ہے۔ یہ ایک نوجوان ٹیم ہے جس کا ابھی تک بیٹنگ آرڈر بھی نہیں طے ہو پایا۔ بولنگ میں بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔

ابھی تک وہ کوئی میچ وننگ جوڑی یا پلئیر نہیں بنا پائے اور سیریز میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔

تو مصباح اور یونس کے بغیر پاکستان کی یہی ٹیم مدمقابل ویسٹ انڈیز سے کتنی بہتر ہو گی؟

ون ڈے ٹیم کی مثال لیجیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دوسرے ٹیسٹ میچ میں لیگ سپنر یاسر شاہ ایک بار پھر فتح گر ثابت ہوئے

وسیم اکرم نے ایک بار ون ڈے ٹیم کے بارے میں کہا تھا کہ اس ٹیم میں سعید اجمل اور مصباح نہ ہوں تو یہ ٹیم بنگلہ دیش سے بھی ہار جائے گی۔ سو جب اجمل پابندی کا شکار ہوئے اور مصباح ریٹائر ہوئے تو بنگلہ دیش نے پاکستان کو کلین سویپ کر دیا۔

بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جوڑی بھلے نہ ہو لیکن ایک اچھا بالریا ایک اچھا بیٹسمین ٹیم کی پہچان بن جاتا ہے۔ ایک مرلی دھرن ورلڈ کپ جتا سکتا ہے۔ ایک کیون پیٹرسن پوری سیریز جتا سکتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ مصباح اور یونس کے بعد پاکستان کے پاس بظاہر کوئی جوڑی تو نہیں لیکن کیا ایسے میچ ونرز ہوں گے۔

یاسر شاہ ایک ایسے بولر ہیں جو اکیلے میچ جتا سکتے ہیں۔ لیکن اگر یاسر شاہ کسی وجہ سے کھیل نہ پائیں یا آؤٹ آف فارم ہوں تو سوچیں کیا ہم باقی بولنگ اٹیک کے ساتھ دس وکٹیں لے سکتے ہیں؟

دورہ انگلینڈ میں یہی ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اظہر علی اس وقت ون ڈے ٹیم کے کپتان ہیں

لارڈز میں یاسر شاہ چل گئے، پاکستان جیت گیا۔ اگلے دونوں میچز میں یاسر نہیں چلے تو دونوں ہار گئے۔ اوول میں پاکستان جیتا کیونکہ یاسر چلے اور یونس کی ڈبل سنچری کو فتح میں بدل دیا۔

ایسے میچ ونر کھلاڑی یا ایسی جوڑیاں جب ٹیم کو دستیاب نہیں ہوتی تو وہی ہوتا ہے جو مچل سٹارک کی عدم موجودگی میں آسٹریلیا کے ساتھ ہوا ہے۔

سری لنکا کی مثال سامنے ہے۔ سنگاکارا اور جے وردھنے نے ایک طویل عرصے سے مڈل آرڈر کو سنبھال رکھا تھا، ان کے جانے کے بعد ابھی تک سری لنکن ٹیم سیٹل نہیں ہو پائی۔ سو مصباح اور یونس کے جانے کے بعد کیا ہو گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا اظہر علی ایسی ذمہ داری نبھا سکتے ہیں؟اس میں دو رائے نہیں کہ یہ سارے لڑکے بہت با صلاحیت ہیں۔ اسد شفیق میں بے پناہ پوٹینشل ہے، سمیع اسلم میں وہ بھوک نظر آتی ہے، سرفراز میچ ونر بننا چاہتے ہیں۔ وہاب ریاض سے زیادہ محنتی شاید کوئی نہیں۔ راحت علی کا ڈسپلن، سہیل خان کے سپیل، عامر کی سٹریٹ سمارٹ بولنگ، سب کچھ تو ہے۔ لیکن یاسر کے سوا کوئی بھی ایسا کھلاڑی نہیں جو اپنی انفرادی کارکردگی سے میچ کا پانسہ پلٹ سکے۔

ویسٹ انڈیز سے ٹیسٹ سیریز جیتنے کی خوشی اپنی جگہ لیکن پاکستان کو ایسے پلئیرز تیار کرنے کی ضرورت ہے جو مصباح اور یونس کی عدم موجودگی میں ٹیم کو سنبھال سکیں۔ ایسا نہ ہو کہ دو بزرگوں کا ساتھ چھوٹتے ہی یہ کشتی ڈولنے لگے۔

اسی بارے میں