پاکستان شارجہ ٹیسٹ بچانے کی کوشش میں مصروف

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption سمیع اسلم ایک مرتبہ پھر ایک بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے

شارجہ ٹیسٹ میں پاکستانی بیٹسمینوں کی غیرذمہ دارانہ کارکردگی نے ویسٹ انڈیز کو اپنے مایوس کن دورے کا اختتام شاندار انداز میں کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔

سیریز کے تیسرے اور آخری کرکٹ ٹیسٹ کے تیسرے دن کے اختتام پر پاکستانی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں صرف 87 رنز پر چار وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی۔

٭ میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

اس کی مجموعی برتری اس وقت صرف 31 رنز کی ہے۔ اس وقت اظہر علی 45 اور سرفراز احمد 19 رنز پر کریز پر موجود ہیں اور دونوں کے درمیان 39 رنز کی شراکت ہو چکی ہے۔

پاکستانی ٹیم نے دوسری اننگز 56 رنز کے خسارے کے ساتھ شروع کی لیکن اس خسارے کو برتری کو تبدیل کرنے سے پہلے ہی اس کی چار وکٹیں صرف 48 رنز پر گر چکی تھیں۔

ویسٹ انڈین کپتان جیسن ہولڈر نے صرف 17 گیندوں پر سمیع اسلم، اسد شفیق اور یونس خان کو آؤٹ کر کے اپنی ٹیم کے حوصلے بلند کر دیے۔

سمیع اسلم ہک کرنے کی کوشش میں جوزف کو ڈیپ فائن لیگ پر کیچ دے بیٹھے۔

اسد شفیق نے گلی پوزیشن میں کھڑے براوو کو کیچ تھمایا۔ ان کے لیے یہ ٹیسٹ بھیانک خواب ثابت ہوا اور وہ اپنے ٹیسٹ کریئر میں دوسری مرتبہ پیئر کی خفت سے دوچار ہوئے۔ اس سے قبل وہ ایجبیسٹن ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے تھے۔

یونس خان بھی بغیر کوئی رن بنائے وکٹ کیپر ڈورچ کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

کپتان مصباح الحق چار رنز بناکر روسٹن چیز کو پُل کرنے کی کوشش میں ڈیپ بیک ورڈ سکویر لیگ پر بشو کو کیچ دے بیٹھے۔

وہ اسی طرح کا شاٹ ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل اور انگلینڈ کے خلاف اولڈ ٹریفرڈ ٹیسٹ میں بھی کھیل کر اپنی وکٹ گنوا چکے ہیں۔

اس صورت حال میں اظہر علی اور سرفراز احمد نے پاکستانی ٹیم کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کی اور یہ دونوں پانچویں وکٹ کی شراکت میں 39 رنز کا اضافہ کر چکے ہیں۔

سرفراز احمد نو کے انفرادی سکور پر سلپ میں جانسن کے ہاتھوں کیچ ہوئے لیکن نو بال نے گیبریئل کو وکٹ سے محروم کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ویسٹ انڈیز کے اوپنر کریگ بریتھ وائٹ نے عمدہ بلے بازی کی

اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی ٹیم پہلی اننگز میں 337 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ 13 ٹیسٹ میچوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ویسٹ انڈیز نے اپنی حریف ٹیم کے خلاف پہلی اننگز کی برتری حاصل کی۔

ویسٹ انڈیز کی اننگز کی خاص بات کریگ بریتھ ویٹ کی شاندار سنچری تھی ۔وہ 142رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے اس طرح وہ ٹیسٹ کرکٹ میں اننگز کے آغاز سے اختتام تک ناٹ آؤٹ رہنے والے پانچویں ویسٹ انڈین اوپنر بھی بن گئے۔’

ان سے قبل سر فرینک وارل ۔ کونریڈ ہنٹ ۔ ڈیسمنڈ ہینز(تین مرتبہ) اور کرس گیل اننگز کے آغاز سے اختتام تک ناٹ آؤٹ رہے تھے۔

ویسٹ انڈیز نے پہلی اننگز 244 رنز چھ کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی تو پاکستانی بولرز کے لیے اس کی بساط لپیٹنا آسان نہ رہا اور چار وکٹیں حاصل کرنے کے لیے اسے 93 رنز دینے پڑگئے۔

آؤٹ ہونے والے پہلے بیٹسمین جیسن ہولڈر تھے جنہیں 16 رنز پر محمد عامر نے بولڈ کیا۔

کریگ بریتھ ویٹ اور دیویندرا بشو نے آٹھویں وکٹ کی شراکت میں 60 اہم رنز کا اضافہ کیا۔

یہ دونوں بیٹسمین محمد نواز کے ایک ہی اوور میں آؤٹ ہونے سے بچے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وہاب ریاض نے اننگز میں پانچ وکٹیں لیں

بشو کو اظہرعلی نے کیچ کیا لیکن اس کوشش میں گیند ان کے ہیلمٹ پر لگ گئی جس پر تھرڈ امپائر کا فیصلہ بیٹسمین کے حق میں گیا۔ پھر بریتھ ویٹ کا کیچ وکٹ کیپر سرفراز احمد لینے میں ناکام رہے اس وقت ان کا سکور 121 رنز تھا۔

بشو کو 27 رنز پر وہاب ریاض نے سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔

وہاب ریاض جوزف اور گیبریئل کی وکٹیں حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے اس طرح انھوں نے 88 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

وہاب ریاض اپنے اولین ٹیسٹ کے بعد اب دوسری مرتبہ کسی ٹیسٹ کی ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ یہ ان کا 20واں میچ ہے۔

ان کے علاوہ محمد عامر نے 71 رنز کے عوض تین کھلاڑی آؤٹ کیے۔

اسی بارے میں