فیفا بدعنوانی معاملے میں وینیزویلا کے اہلکار کا اعتراف جرم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رافیل ایزقوئیل، جو وینیزویلا فٹبال فیڈریشن کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں، کوگذشتہ مارچ میں امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا اور ان پر دیگر چھ افسران کے ساتھ اگلے برس مقدمہ چلے گا۔

فٹبال کے عالمی ادارے فیفا میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کی تفتیش کے سلسلے میں وینیزویلا سے تعلق رکھنے والے فٹبال کے ایک افسر نے بدعنوانی میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔

فیفا میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کی تفتیش امریکہ میں چل رہی ہے جہاں مذکورہ شخص نے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے۔

رافیل ایزقوئیل نے ٹورنامنٹ کے مارکیٹنگ حقوق کی فروخت کے سلسلے میں رشوت لینے کا اعتراف کیا ہے۔

اس سلسلے میں گذشتہ برس رافیل سمیت فیفا کے سات سینیئر افسران کو سوئٹزرلینڈ کے ایک لگژری ہوٹل سے گرفتار کیا گيا تھا۔

فیفا میں کرپشن کے تحت 40 سے زیادہ افراد اور کمپنیوں پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

رافیل ایزقوئیل، جو وینیزویلا فٹبال فیڈریشن کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں، انہیں گذشتہ مارچ میں امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا اور ان پر دیگر چھ افسران کے ساتھ اگلے برس مقدمہ چلے گا۔

انھوں نے بروکلن کی ایک عدالت میں سازش کرنے، مالی فراڈ میں ملوث ہونے اور تین بار رشوت لینے جیسے الزامات کو تسلیم کرلیا ہے۔ رافیل نے ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی رقم کو واپس کرنے سے بھی اتفاق کر لیا ہے۔

ان پر یہ الزامات جنوبی امریکی ممالک کے کوپا لبریٹوڈرز اور کوپا امریکہ جیسے کلب ٹورنامنٹ کی مارکیٹنگ کرنے میں رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ان کلب ٹورنامنٹ میں جنوبی امریکی ممالک کی قومی ٹیمیں شرکت کرتی ہیں۔

مسٹر ایزقوئیل کر ایسے ہر ایک جرم کے لیے 20 برس کی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

امریکہ کی جانب سے اس تفتیش کے تحت اب تک اس معاملے میں 19 افراد اور دو کمپنیاں اپنے جرم کا اعتراف کرچکی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں