کیا وقت تھم جائے گا؟

مصباح تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور نیوزی لینڈ کی اس مختصر ٹیسٹ سیریز میں سب سے زیادہ دلچسپ پہلو یہی ہے کہ پاکستانی کپتان اپنے فیورٹ بیٹسمین کی کپتانی کا مقابلہ کریں گے

ایک بار جیرڈ کمبر نے مصباح کی کپتانی بارے لکھا تھا 'مصباح کا طریقہ واردات، بیٹسمین کے اعصاب پہ دھیرے دھیرے سوار ہونا اور اس کے رنز روکنا ہے۔ اگر کبھی کپتان مصباح اور بیٹسمین مصباح مدمقابل ہوئے تو وقت تھم جائے گا۔'

کیا کیویز سے ٹیسٹ سیریز میں ہمیں ایسا دیکھنے کو مل سکتا ہے؟ سوال تو یہ ہے کہ دو میچز کی مختصر سیریز میں ایسا کیا ہونے جا رہا ہے کہ وقت تھم جائے۔

چند ہفتے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں جب مصباح سے یہ سوال کیا گیا کہ ان کا فیورٹ بیٹسمین کون ہے تو ان کا فوری جواب تھا، 'کین ولیمسن'۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کی اس مختصر ٹیسٹ سیریز میں سب سے زیادہ دلچسپ پہلو یہی ہے کہ پاکستانی کپتان اپنے فیورٹ بیٹسمین کی کپتانی کا مقابلہ کریں گے۔

فٹبال میچز کوچز کی پلاننگ کے بل پر جیتے جاتے ہیں، کرکٹ، بالخصوص ٹیسٹ کرکٹ، میں یہ دارومدار کپتان پہ ہوتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے توعمومی مشاہدہ یہی ہے کہ کپتان بطور پلیئیر جس مزاج کا مالک ہو، وہی مزاج اس کی کپتانی میں جھلکتا ہے۔

پونٹنگ جتنے جارحانہ بیٹسمین تھے، اتنے ہی جارح مزاج کپتان بھی تھے۔ ڈوپلیسی جتنے متحمل مزاج بیٹسمین ہیں، اتنا ہی تحمل ان کی کپتانی میں جھلکتا ہے۔

کپتانی کا پریشر بھی پلیئرز کی انفرادی گیم پہ مختلف طریقوں سے اثر انداز ہوتا ہے۔ یونس خان بہت اچھے کپتان تھے مگر کپتانی کے دوران ان کی اپنی بیٹنگ بری طرح سے متاثر ہوئی۔ اس کے برعکس کچھ پلیئرز ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان پہ کپتانی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو ان کی انفرادی فارم میں یکایک حیران کن بہتری دیکھنے کو ملتی ہے۔

اینجیلو میتھیوز اس کی ایک مثال ہیں۔ یا مصباح کو ہی دیکھ لیجیے، کپتانی سے قبل ٹیسٹ میں ان کی بیٹنگ اوسط چالیس سے بھی کم تھی مگر کپتانی کے بعد پچاس سے بھی زیادہ ہو گئی۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم برینڈن میک کلم کی زیر قیادت ورلڈ کپ میں رنر اپ رہی لیکن ان کے جاتے ہی جب کپتانی کا بوجھ ولیمسن پہ پڑا تو ان کی بیٹنگ فارم پہ منفی اثر پڑا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ ان کی زیر قیادت ٹیم کی پرفارمنس اور رینکنگ تاحال رو بہ زوال ہیں۔ انڈیا کے دورے پہ ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ ہونے کے بعد کیویز ون ڈے سیریز بھی ہار گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پونٹنگ جتنے جارحانہ بیٹسمین تھے، اتنے ہی جارح مزاج کپتان بھی تھے

اب جبکہ وہ جمعرات کو کرائسٹ چرچ میں پاکستان کے مد مقابل ہوں گے تو حالات دورہ بھارت سے بھی ابتر ہوں گے۔ اوپننگ بیٹسمین مارٹن گپٹل اپنی خراب فارم کے سبب ان کے ساتھ نہیں ہوں گے۔ دورہ انڈیا کے ٹاپ پرفارمر مچل سینٹنر کلائی کی انجری کے سبب باہر ہو چکے ہیں، طرہ یہ کہ ایڈم مل اور مارک کریگ سمیت جو قدرے تجربہ کار پلیئرز پہلے سے انجریز کا شکار تھے ان میں سے کوئی بھی ابھی تک واپس نہیں آیا۔

گپٹل کے علاوہ لوک رونچی اور اش سوڈی سمیت پانچ پلیئرز کو فارم کی بنیاد پہ ڈراپ کر دیا گیا اور ان کے متبادل جو نئے چہرے لائے گئے ہیں جن کو کیوی ڈومیسٹک سرکٹ سے باہر شاید پہچانا بھی نہیں جاتا۔

لیکن انڈیا کے دورے میں ہمیں یہ دیکھنے کو ملا کہ اگر کین ولیمسن کا بلا چل جائے تو ان کی کپتانی بھی خوب چلتی ہے۔ پہلے چار میچ ہارنے کے بعد جب وہ دوسرے ون ڈے میں بیٹنگ کرنے آئے تو کیوی ٹیم اسی حال میں تھی جو کبھی مصباح کی ون ڈے ٹیم کا ہوتا تھا۔ لیکن ولیمسن نے سخت کنڈیشنز اور ناسازگار موسم کے باوجود سنچری کی اور پھر بطور کپتان نہایت مہارت سے 242 کے حقیر ٹوٹل کا دفاع بھی کیا۔ اگر ان کی انفرادی فارم واپس آ جائے تو ان کی ٹیم بھی ان کے ساتھ ساتھ پرفارم کرنے لگتی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ دورہ کسی طرح سے بھی آسان نہیں ہے۔ ویسٹ انڈیز سے آخری ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد اب انھیں اس ٹرانزٹ ٹور کو اپنی تیاری کے لیے استعمال کرنا ہے کیونکہ کینگروز جتنے بھی برے حال میں ہوں، آسٹریلین کنڈیشنز میں ان سے تین ٹیسٹ میچز کی سیریز جیتنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ اس لیے پاکستان کے لیے کیویز کو سیریز ہرانے سے کم کچھ بھی قابل قبول نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انڈیا کے دورے میں ہمیں یہ دیکھنے کو ملا کہ اگر کین ولیمسن کا بلا چل جائے تو ان کی کپتانی بھی خوب چلتی ہے

یہ بات بھی زیر بحث ہے کہ پاکستان کی فاسٹ بولنگ کا کڑا امتحان ہو گا کیونکہ متحدہ عرب امارات میں سیکنڈ لائن آف اٹیک کہلانے والے پاکستانی پیسرز کو اب ان وکٹوں پہ یاسر شاہ کی اتنی سپورٹ نہیں ہو گی۔ بظاہر اس دلیل میں وزن ہے مگر دورہ انگلینڈ کو دیکھا جائے تو پاکستانی فاسٹ بولنگ کے بارے میں کچھ بھی مایوس کن نہیں ہے۔ وہاب کی پیس کا خطرہ اور راحت کا ڈسپلن برقرار رہنے کے ساتھ ساتھ اس میں بھی شبہ نہیں کہ عامر اس وقت انگلش ٹور سے کہیں بہتر فارم اور زیادہ ردھم میں ہیں۔

واحد چیز جو اس پوری سیریز کا رخ متعین کر سکتی ہے وہ ہے کین ولیمسن کی بیٹنگ فارم۔ اگر پاکستان ان کے رنز روکنے میں کامیاب رہا تو سیریز جیت سکتا ہے۔ مگر زخم خوردہ کیویز جیت کا قحط ختم کرنے کے لیے اپنی ہوم کنڈیشنز کا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔

کیا مصباح اپنے ہی جیسے بیٹسمین کے اعصاب پہ سوار ہو پائیں گے؟ کیا وقت تھم جائے گا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں