کشمیری کرکٹرز بھی پشاور زلمی کے مداح

پشاور زلمی
Image caption یہ تینوں کرکٹرز دبئی میں مقیم ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے کرکٹرز بھی پشاور زلمی کے مداح نکلے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والی ٹیم پشاور زلمی نے کلب کرکٹ کو فروغ دینے کے لیے دنیا بھر کے مختلف شہروں میں اپنی ٹیمیں تیار کی ہیں اور اس سلسلے میں دبئی زلمی کی ٹیم میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک کرکٹر محسن مشتاق بھی شامل ہوئے ہیں۔

٭ ڈیرن سیمی پشاور زلمی کے کپتان مقرر

دبئی زلمی کے ٹرائلز گذشتہ دنوں دبئی میں ہوئے تھے جن میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین کرکٹرز محسن مشتاق، فاروق احمد اور ہلال مقبول نے حصہ لیا تھا۔

یہ تینوں کرکٹرز دبئی میں مقیم ہیں۔ ان میں سے محسن مشتاق کامیاب ہوئے اور اب انھیں اس بات کی بہت زیادہ خوشی ہے کہ وہ شاہد آفریدی، ڈیرن سیمی اور کوچ محمد اکرم کی نگرانی میں ٹریننگ کرسکیں گے۔

ہلال مقبول اگرچہ ٹرائلز میں کامیاب نہیں ہوسکے لیکن وہ مایوس نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور وہ اگلی مرتبہ زیادہ اچھی تیاری کے ساتھ ٹرائلز میں آئیں گے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی طاہر ابن منظور کا کہنا ہے کہ کشمیر میں باصلاحیت کرکٹرز موجود ہیں لیکن کھیلوں کی بنیادی سہولتیں انہیں میسر نہیں ہیں اس کے باوجود کشمیری بچوں اور نوجوانوں میں کرکٹ کا جنون کی حد تک شوق ہے اور وہ جہاں جگہ ملتی ہے کرکٹ کھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔

طاہر ابن منظور کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کی ٹیم پشاور زلمی نے مختلف شہروں میں کلب کرکٹ کو روشناس کروا کر نوجوان باصلاحیت کرکٹرز کو آگے لانے کا اچھا موقع دیا ہے اور اس سے دنیا کو باصلاحیت کشمیری کرکٹرز کے بارے میں بھی پتہ چلے گا۔

Image caption بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے محسن مشتاق بھی کامیاب ہوئے ہیں، انھیں اس بات کی بہت زیادہ خوشی ہے کہ وہ شاہد آفریدی ڈیرن سیمی اور کوچ محمد اکرم کی نگرانی میں ٹریننگ کرسکیں گے

پشاور زلمی کے سربراہ جاوید آفریدی نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ وہ پشاور زلمی کو صرف پاکستان سپر لیگ تک محدود رکھنا نہیں چاہتے بلکہ ان کی کوشش ہے کہ دنیا بھر میں کرکٹ کے ذریعے پاکستان کے بارے میں امن کا پیغام دیا جائے اور گلوبل زلمی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کے تحت دنیا کے 15 شہروں میں زلمی کے نام سے کلب رجسٹرڈ کیے گئے ہیں۔

جن شہروں میں کرکٹ کلب بنائے گئے ہیں ان میں میلبرن، دبئی، نیویارک، لندن کے علاوہ کینیڈا، جرمنی، بحرین، قطر قابل ذکر ہیں۔ اس پروگرام کے تحت کھلاڑیوں کے ٹرائلز لیے گئے اور ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ ان میں سے دس ٹیمیں آئندہ سال فروری میں زلمی ورلڈ کپ کے نام سے دبئی میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں حصہ لیں گی۔

جاوید آفریدی کا کہنا ہے کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس گلوبل کرکٹ کے ذریعے بھارت اور افغانستان کے کرکٹرز بھی سامنے آئے ہیں اور بھارتی شائقین نے بھی زلمی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کی پذیرائی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سے دنیا کو ایک بھرپور پیغام دیا جارہا ہے کہ اگر بھارت پاکستان سے کھیلنا نہیں چاہتا اور آئی پی ایل کے دروازے پاکستانی کرکٹرز پر بند ہیں لیکن زلمی گلوبل کے پروگرام کے تحت سب کو ایک ساتھ کھیلنے کا موقع مل رہا ہے جو بڑی اہم بات ہے۔

جاوید آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ سپورٹس ڈپلومیسی کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کو بھی قریب لانے کے لیے کوشاں ہیں اور جلد ہی لوگ افغانستان اور پشاور زلمی کی کرکٹ کے سلسلے میں خوش خبری سنیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں