کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں بیٹسمینوں کے لیے بھاری دن

یاسر شاہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستانی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں صرف 133 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی

کسی گمنام بولر کو ہیرو بنادینے کا فن پاکستانی بیٹسمینوں سے زیادہ اچھا اور کون جانتا ہے۔

کرائسٹ چرچ ٹیسٹ کے دوسرے دن نیوزی لینڈ کے تیز بولر کالن ڈی گرینڈ ہوم بھی ہیرو بن گئے۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

کرائسٹ چرچ ٹیسٹ کا پہلا دن بارش کے باعث شروع نہ ہو سکا

زمبابوے کی طرف سے انڈر 19 کھیلنے والے گرینڈ ہوم نے نیوزی لینڈ کی طرف سے کھیلتے ہوئے اپنے اولین ٹیسٹ کو41 رنز کے عوض 6 وکٹوں کی شاندار کارکردگی سے یادگار بنا دیا۔

انہوں نے نیوزی لینڈ کے کسی بھی بولر کی اپنے اولین ٹیسٹ میں بہترین بولنگ کا 65 سالہ ریکارڈ بھی توڑ دیا جو 1951 میں الیکس موئر نے انگلینڈ کے خلاف 155 رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کر کے قائم کیا تھا۔

یہ اسی سوئنگ بولنگ کا نتیجہ ہے کہ پاکستانی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں صرف 133 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی جو نیوزی لینڈ میں اس کا تیسرا سب سے کم سکور ہے۔

پاکستانی بولرز کی جوابی کارروائی بھی کم موثر نہ تھی جس کے نتیجے میں وہ کھیل کے اختتام تک نیوزی لینڈ کی 3 وکٹیں 104 رنز پر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption اپنا پہلا میچ کھیلنے والے جیت راول نے محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری سکور کی

یہ بات سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ نیوزی لینڈ میں کنڈیشنز سوئنگ اور سیم دونوں پر مہارت رکھنے والے بولرز کے لیے مددگار ہیں ایسے میں ٹاس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

کرائسٹ چرچ ٹیسٹ پہلے دن بارش کی نذر ہونے کے بعد جب دوسرے دن شروع ہوا تو مصباح الحق بحیثیت کپتان اپنے پچاس ویں ٹیسٹ کا اہم ٹاس جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور درحقیقت یہیں سے پاکستانی ٹیم کی مشکلات کا آغاز بھی ہو گیا۔

انڈیا کے دورے میں ان فٹ ہوجانے والے ٹم ساؤدی، ٹرینٹ بولٹ اور اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے گرینڈ ہوم کی گھومتی گیندوں پر پاکستانی بیٹسمینوں کے لیے قدم جمانا مشکل ہوتا چلا گیا۔ ان بولرز کو اپنے سلپ فیلڈرز خصوصاً جیت راول سے بھی ڈھارس ملی جو اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔

سمیع اسلم اور اظہرعلی سکور 31 رنز تک لے جانے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن پھر صرف 25 رنز کے اضافے پر چار وکٹیں گر گئیں۔

اظہرعلی کو گرینڈ ہوم نے بولڈ کیا۔ سمیع اسلم ٹم ساؤدی کی گیند پر راول کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

گرینڈ ہوم نے نمبر تین پوزیشن پر کھلائے گئے بابراعظم کو ٹیلر اور یونس خان کو راول کے ہاتھوں کیچ کرایا تو پاکستان کا سکور صرف 56 رنز تھا ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Empics
Image caption نیوزی لینڈ کی جانب سے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے کولن گرینڈ ہوم نے چھ ، ٹِم ساؤدی اور ٹرینٹ بولٹ نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

کپتان مصباح الحق کے لیے یہ صورتحال نئی نہیں تھی وہ ماضی میں متعدد مرتبہ مشکل حالات میں بیٹنگ کرچکے ہیں ۔اس بار بھی انہوں نے اپنے طور پر ٹیم کو مشکل سے نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن دوسرے اینڈ سے انہیں کوئی مدد نہ مل سکی۔

اسد شفیق اور سرفراز احمد جلد ہی ان کا ساتھ چھوڑ گئے جس کے بعد ٹیل اینڈرز کو قابو کرنا نیوزی لینڈ کے بولرز کے لیے آسان ہوگیا۔

مصباح الحق31 رنز بناکر آؤٹ ہونے والے نویں بیٹسمین تھے۔

نیوزی لینڈ کو بخوبی اندازہ تھا کہ پاکستانی بولرز انہیں آسانی سے رنز نہیں بنانے دیں گے اور ہوا بھی یہی۔

محمد عامر، سہیل خان اور راحت علی کے ٹرائیکا نے سکور کے 40 تک آتے آتے نیوزی لینڈ کو تین وکٹوں سے محروم کر دیا تھا جن میں کپتان کین ولیم سن کی اہم وکٹ بھی شامل تھی لیکن جیت راول کی ناقابل شکست نصف سنچری کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان کے سکور سے صرف 29 رنز دور رہ گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں