روس سرکاری سرپرستی میں ڈوپنگ کے الزام کو تسلیم کر لے: واڈا

ڈوپنگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روس کو ریو اولمپکس میں بھی بغص پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا

عالمی انسداد ڈوپنگ ایجنسی کے حکام نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری سرپرستی میں ڈوپنگ پروگرام کو چلانے کے الزام کو تسلیم کر لے تاکہ کھیلوں کی دنیا کا اعتماد بحال ہو سکے۔

روس کے سابق وزیرِ کھیل اور ملک میں انسداد ڈوپنگ کمیشن کے سربراہ ویتلے سمرنوف نے کہا ہے کہ انھوں نے کبھی سرکاری سرپرستی میں ڈوپنگ کا پرگرام نہیں چلایا۔

ڈوپنگ کا سکینڈل افاش ہونے پر واڈا یعنی عالمی انسداد ڈوپنگ ایجنسی نے زور دیا تھا کہ روسی ایتھلیٹس پر ریو اولمپکس میں شرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے تاہم اولمپکس کی بین الاقوامی کمیٹی نے ہرکھیل کی انفرادی فیڈریشنز سے کہا تھا کہ وہ فیصلہ کریں کہ آیا روسی ایتھلیٹس مقابلوں میں شرکت کے اہل ہیں یا نہیں۔

واڈا کے فاؤنڈیشن گروپ کے گلاسگو میں ہونے والے اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ ڈوپنگ کی پروفیسر رچرڈ مکلیرن کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات کا دوسرا حصہ نو دسمبر کو جاری کیا جائے گا۔

ڈوپنگ ایجنسی کے صدر گریگ ریڈی نے کہا کہ' وہ پر اعتماد ہیں کہ واڈا روس کے ساتھ اس معاملے پر پیش رفت کر رہی ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ مکلیرن کمیشن نے نشاندہی کی تھی کہ ماسکو کی لیبارٹری اور وزارتِ کھیل میں ضابطہ کار کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔'

خیال رہے کہ رواں برس واڈا کی جانب سے کی جانے تحقیقات میں یہ امر سامنے آیا تھا کہ روسی کھیلوں کی کمیٹی نے اپنے کھلاڑیوں کے پیشاب کے نمونوں میں ہیرا پھیری 'کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی کی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روس نے سوچی میں منعقد ہونے والے سنہ 2014 کی موسم سرما کے اولمپکس کھیلوں میں کھلاڑیوں کی مدد کرنے کے لیے ڈوپنگ پروگرام جاری کیا تھا

یہ تحقیق روس کی انسداد ڈوپنگ کی لیبارٹری کے سابق سربراہ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی وجہ سے کروائی گئی۔

گرگوری روڈچنکاف کا کہنا تھا کہ انھوں نے سوچی میں منعقد کھیلوں کے دوران درجنوں کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کی ادویات فراہم کی تھیں۔

ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ رچرڈ مکلیرن نے سوئٹزر لینڈ کے شہر لوزان میں واقع انسداد ڈوپنگ لیبارٹری میں رکھے جانے والے سنہ 2014 کی سوچی کھیلوں کے پیشاب کے نمونوں کو لندن میں واقع ایک اور لیبارٹری میں یہ دیکھنے کے بھیجا کہ کیا بوتلوں پر کھرچنے نے نشان تھے یا نہیں۔

مکلیرن نے کہا تھا کہ بوتلوں کو '100 فیصد کھرچا گیا تھا۔'

اسی بارے میں