مزید سابق فٹبال کھلاڑی جنسی زیادتی پر بول پڑے

Image caption وکٹوریا ڈربی شائر نے جیسن ڈنفورڈ، سٹیو والٹرز، کرس انسورتھ اور اینڈی وڈورڈ سے بات کی

چار برطانوی سابق فٹبال کھلاڑیوں نے ایک جذباتی انٹرویو کے دوران اپنے بچپن میں کوچ کی جانب سے زیادتی کا نشانہ بننے کے حوالے سے اپنی تکلیف کا ذکر کیا ہے۔

گذشتہ ہفتے عوام کے سامنے زیادتی کا پہلے مرتبہ ذکر کرنے والے اینڈی وڈورڈ تھے جن کے بعد کرس انسورتھ اور جیسن ڈنفورڈ نے بھی خاموشی توڑی اور فٹبال ٹیم کریو الیگزینڈرا کے سابق کوچ بیری بینل کی جانب سے زیادتی کا نشانہ بننے کے بارے میں پہلی مرتبہ بات کی۔

کرس انسورتھ نے کہا کہ انھوں نے ’کسی کو بھی نہیں بتایا تھا کہ ان کا 100 بار ریپ کیا گیا۔‘

بیری بینل چائلڈ سیکس کے جرم میں تین بار جیل جا چکے ہیں۔

جیسے ہی اینڈی وڈورڈ کی کہانی منظر عام پر آئی تو کئی سابق کھلاڑیوں نے بھی کوچوں پر بچپن میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے الزامات لگانا شروع کر دیے۔

ان میں سے زیادہ تر الزامات بیری بینل پر لگائے گئے ہیں جو اس وقت بکنگھم شائر کے قصبے ملٹن کینز میں رہائش پذیر ہیں۔

جنسی زیادتی کے الزامات کے حوالے سے خصوصی طور پر ایک ہاٹ لائن نمبر جاری کیا گیا ہے جس پر ابتدائی دو گھنٹوں میں 50 سے زائد کالز موصول ہوئیں۔

وزیراعظم کے ترجمان نے سابق فٹبالروں کی جانب سے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حوالے بات کرنے کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ ’ان الزامات کو مکمل سنجیدگی سے سننے کی ضرورت ہے۔‘

Image caption جیسن ڈنفورڈ نے کہا کہ انھوں نے بینل کو مار کر ہٹایا

44 سالہ انسورتھ کا کہنا ہے کہ ان کی گرل فرینڈ نے جب انھیں مسٹر وڈورڈ کے ساتھ بی بی سی کی وکٹوریا ڈربی شائر کا پروگرام دکھایا تو انھوں نے بھی اپنے حق کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

جمعے کو وکٹوریا ڈربی شائر سے بات کرتے ہوئے انسورتھ کا کہنا تھا کہ ’میں نے سوچا کہ مجھے آگے آنے اور سب کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔‘

1980 کی دہائی کے وسط میں انسورتھ کی عمر 12 سال تھی جب وہ مانچسٹر سٹی میں یوتھ پلیئر تھے جس کے بعد وہ بیری بینل کے ہمراہ کریو الیکزینڈرا میں آ گئے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ بیری بینل کے گھر پر ہی رہتے تھے جہاں اکثر ان کے ساتھ دو یا تین لڑکے ہوتے تھے جنھیں وہ زیادتی کا نشانہ بناتے تھے۔

انسورتھ نے بتایا کہ ’ہم نے اس بارے میں کبھی ایک دوسرے سے بات نہیں کی، 50 سے 100 بار کے درمیان میرا ریپ کیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ نو سال کے تھے جب ان کے ساتھ زیادتی کا آغاز ہوا تھا۔

انسورتھ نے مزید بتایا کہ ’میں سمجھا کہ میں جو (فٹبال میں کرنا چاہتا ہوں اس کے لیے مجھے اس سب سے گزرنا ہو گا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ غلط ہے لیکن میں اسی کے ساتھ چلتا رہا۔‘

دوسری جانب جیسن ڈنفورڈ نے اپنی کہانی کچھ یوں بتائی کہ وہ فٹبال مقابلہ جیتنے کے بعد بٹلنز ہالیڈے کیمپ میں رہ رہے تھے جب بیری بینل نے انھیں بستر میں چھونے کی کوشش کی۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے انھیں ہٹنے کو کہا اور انھیں جسمانی طور پر ہٹانا مجھے یاد ہے۔‘

ڈنفورڈ نے کہا کہ ’بیری بینل نے مزاحمت تو نہیں کی لیکن وہ بینل کی خطرناک نظریں نہیں بھول سکتے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد بینل نے انھیں ’اذیت‘ دینا شروع کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ٹیم سے ڈراپ کر دیتے تھے، مجھ سے کہتے تھے کے آپ کھیلیں گے اور اتوار کو مجھے پھر سے ڈراپ کر دیتے۔‘

ڈنفورڈ مانچسٹر سٹی کی نرسری ٹیم چھوڑ کر الگ لڑکوں کی ٹیم میں چلے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک موقعے پر ایک اور کوچ نے بھی ان کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی۔

’میچ سے قبل انھوں نے مجھے اور دیگر دو کھلاڑیوں کو رات رکنے کے لیے کہا، اور ہم سب ایک ہی بستر میں سوئے۔‘

ان کے مطابق: ’انھوں نے مجھے چھونا شروع کیا تو میں نے ان کا ہاتھ ہٹا دیا۔ بعد میں جب میں نیند سے بیدار ہوا تو کوچ ایک اور لڑکے کو چھو رہے تھے۔‘

ان میں سے کوئی بھی کھلاڑی پروفیشنل نہ بن سکا جس کی وجہ ان کے مطابق یہ تھی کہ بیری بینل انھیں کھیل سے دور رکھتے تھے۔

کلچر، سپورٹس اینڈ میڈیا کمیٹی کے چیئرمین ایم پی ڈیمیئن کولنز کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’صنعت کو ان لوگوں سے پوچھنا چاہیے جو اس سے پہلو تہی کرتے ہیں کیونکہ یہ مسئلہ بہت مشکل لگ رہا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ان کوچز کے بارے میں بات کرنا بہت مشکل ہو گا جو ان کی مستقبل میں رہنمائی کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں