مشکوک بولنگ ایکشن کا قانون سب کے لیے یکساں ہو: حفیظ

حفیظ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محمد حفیظ انگلینڈ کے دورے کے بعد سے پاکستانی ٹیم سے باہر ہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد حفیظ بولنگ ایکشن کلیئر ہونے پر خوش لیکن مشکوک بولنگ ایکشن کے قانون اور اس کے ذریعے بولرز سے نمٹنے کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں ہیں۔

محمد حفیظ نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ مشکوک بولنگ ایکشن کا قانون غیر واضح ہے کیونکہ یہ مائنڈ سیٹ کی بات ہے کہ اگر امپائرز کسی بولر کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں تو ہر چیز بری لگے گی۔

محمد حفیظ کا بولنگ ایکشن کلیئر

'اس وقت بھی انٹرنیشنل کرکٹ میں ایسے کھلاڑی بولنگ کر رہے ہیں جن کے بولنگ ایکشن میں گڑبڑ لگتی ہے لیکن انہیں رپورٹ نہیں کیا گیا لہذٰا اس قانون کو ایسی جگہ لانے کی ضرورت ہے جہاں تمام شکوک وشبہات دور ہو جائیں جو ذہنوں میں آتے ہیں کہ کسی بولر کے بولنگ ایکشن کو رپورٹ کر دیا اور کسی کو نہیں۔'

محمد حفیظ نے کہا کہ وہ اس بات ہر ہمیشہ زور دیتے آئے ہیں کہ مشکوک بولنگ سے متعلق قانون تمام بولرز کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔اس کا اطلاق تمام بولرز پر ہونا چاہیے۔

محمد حفیظ کو امید ہے کہ اس سال دوسری مرتبہ بولنگ ایکشن کلیئر ہونے کے بعد دوبارہ انہیں اس طرح کی صورتحال اور پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محمد حفیظ کا بولنگ ایکشن پہلی بار نومبر2014 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں رپورٹ ہوا تھا

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے کریئر میں ایک ہی انداز اور ایکشن سے بولنگ کی ہے اور اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں کی۔وہ اب بھی اسی ایکشن سے بولنگ کریں گے جس سے وہ پہلے کرتے آئے ہیں۔

محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں واپسی کے لیے پرامید ہیں۔ وہ اب مکمل فٹ ہیں اور ڈومیسٹک کرکٹ بھی کھیل رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آ کر بیٹنگ کے ساتھ ساتھ بولنگ میں بھی پاکستانی ٹیم کے کام آئیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ دنیا کے نمبر ایک آل راؤنڈر کا اعزاز دوبارہ حاصل کریں جو انہیں پہلے ملا تھا۔

اسی بارے میں