حویلیاں کے قریب پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر چترال سے اسلام آباد آنے والا پی آئی اے کا مسافر بردار طیارہ بدھ کی شام کو حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ہے جس میں عملے کے ارکان سمیت 48 افراد سوار تھے۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے شام گئے ایک بیان میں کہا کہ جائے حادثہ سے اکیس مسافروں کی لاشیں تلاش کر لی گئی ہیں۔

پہاڑی علاقے اور اندھیرے کے باعث فوج اور سول امدادی اداروں کو جائے حادثہ سے لاشوں کو تلاش کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔

پاکستان کی سرکاری فضائی کمپنی پی آئی اے کے مطابق اس طیارے میں 42 مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے۔ مسافروں میں ملک کے مشہور گلوکار اور نعت خواں جنید جمشید بھی شامل تھے۔

بدھ کی شام گئے تک ہلاکتوں کے بارے میں کوئی حتمی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔

حادثے کے فوری بعد پی آیی اے کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اے ٹی آر 42 ساخت کے مسافر بردار طیارے میں 48 افراد سوار تھے اور یہ چترال سے اسلام آباد آ رہا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ حویلیاں کے قریب طیارے کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pia
Image caption مسافروں کی فہرست

حادثے کے فوری بعد فوجی ہیلی کاپٹر اور فوجی دستے جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیے گئے تھے۔

حویلیاں کے ڈی ایس پی خورشید تنولی نے نامہ نگار ذیشان ظفر کو بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائینز کا جہاز پی کے 661 چترال سے اسلام آباد آ رہا تھا جب ایبٹ آباد کے قریب حویلیاں میں جہاز کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہو گیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ بٹولنی گاؤں کے قریب واقعہ پہاڑیوں پر جہاز گرا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس گاؤں تک گاڑیوں کے ذریعے جانے کا راستہ موجود ہے جائے حادثہ تک آدھے گھنٹے پیدل چلنے کے بعد ہی جایا جا سکتا ہے۔

پرواز پی کے 661 کی روانگی کا وقت تین بج کر تیس منٹ تھا جبکہ اسلام آباد آمد کا وقت 4 بج کر 40 منٹ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption جنید جمشید کی چار دسمبرکی ٹوئٹ: ’زمین پر جنت چترال، دوستوں کے ہمراہ اللہ کی راہ پر‘

ذرائع کا بتانا تھا کہ اسلام آباد پہنچنے سے کچھ پہلے طیارے کا ریڈار سے رابطہ منقطع ہوگیا۔