پاکستان کی ون ڈے ٹیم دوسروں سے ایک قدم پیچھے رہ گئی ہے: انضمام الحق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے چیرمین انضمام الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ون ڈے ٹیم اس معیار کی کرکٹ نہیں کھیل رہی ہے جو دوسری ٹیمیں کھیل رہی ہیں اور وہ دوسروں سے ایک قدم پیچھے رہ گئی ہے۔

انضمام الحق نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی ٹیم بری نہیں ہے لیکن اس میں یہ خوبی ہونی چاہیے کہ اگر کوئی ٹیم ساڑھے تین سو رنز سکور کرتی ہے تو وہ یہ ہدف حاصل کرسکے یا کم ازکم وہ اس کی کوشش کرتے ہوئے ضرور نظر آئے۔

انھوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے جو آہستہ آہستہ آئے گی۔ 'آپ فوری طور پر تبدیلی کی توقع نہیں رکھ سکتے اس میں وقت لگے گا۔'

انضمام الحق نے ون ڈے ٹیم میں فوری طور پر تبدیلی کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تین صفر سے ون ڈے سیریز جیتی ہے اس وننگ کامبی نیشن کو فوراً تبدیل کردینا ممکن نہیں۔

انضمام الحق نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کسی بھی کھلاڑی کو نظرانداز نہیں کررہی ہے لیکن اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کسی بھی کرکٹر کی پاکستانی ٹیم میں آٹومیٹک سلیکشن نہیں ہوسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ فرسٹ کلاس سیزن میں جن بیٹسمینوں نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ سب مڈل آرڈر بیٹسمین ہیں۔

'موجودہ صورتحال میں ان کی فوری ٹیم میں شمولیت ممکن نہیں کیونکہ اس وقت پاکستانی ٹیم میں بابراعظم، یونس خان، مصباح الحق اور اسد شفیق موجود ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ انھیں ہٹاکر کسی نئے بیٹسمین کو ٹیم میں فوری طور پر شامل کرلیا جائے۔'

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ یقین دلاتے ہیں کہ کسی بھی کرکٹر کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا اور جو بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے وہ سلیکشن کمیٹی کی نظروں میں ہے۔

انضمام الحق نے کہا کہ پہلے یہ ہوتا تھا کہ جو بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا تھا اسے پاکستان کا دورہ کرنے والی غیرملکی ٹیموں کے خلاف سائیڈ میچوں میں موقع دیا جاتا تھا اور اس کے علاوہ پاکستان اے کے دورے بھی ہوا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption موجودہ فرسٹ کلاس سیزن میں جن بیٹسمینوں نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ سب مڈل آرڈر بیٹسمین ہیں: انضمام

'لیکن اب ہوم سیریز نہ ہونے کے سبب سائیڈ میچز نہیں ہوتے اور اے ٹیموں کے دورے بھی اب دوبارہ شروع ہوئے ہیں لہٰذا باصلاحیت کرکٹرز کو ان میں موقع دیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کرکٹرز کو اکیڈمی میں بلاکر ان کا کیمپ لگایا جائے گا اور ان کی فٹنس اور ٹکنیک پر کام کیا جائے گا اور آہستہ آہستہ انھیں ٹیم میں لایا جائے گا۔'

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ وہ سلیکشن کے معاملات میں مکمل اختیارات رکھتے ہیں لیکن کپتان اور کوچ کی رائے کو ہمیشہ اہمیت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے انھوں نے نیوزی لینڈ کے دورے کے بعد کپتان اور کوچ کے کہنے پر آسٹریلوی دورے کے لیے بھی اسی ٹیم کو برقرار رکھا حالانکہ ٹیم میں ردوبدل ہوسکتا تھا۔

انضمام الحق کا کہنا ہے کہ وہ کپتان اور کوچ کو تمام تر دباؤ سے دور رکھنے کی خاطر تمام تر دباؤ خود لینے کے لیے تیار رہتے ہیں اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں