برسبین کی تیز وکٹ پر پاکستانی بیٹسمینوں کا کڑا امتحان

پاکستان کرکٹ ٹیم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی کرکٹ ٹیم آسٹریلوی سرزمین پر 11 ٹیسٹ سیریز کھیل چکی ہے لیکن ابھی تک وہ کوئی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ اس نے 21 سال سے آسٹریلیا میں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیتا ہے

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ جمعرات سے برسبین میں شروع ہو رہا ہے۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف شارجہ اور پھر نیوزی لینڈ کے دورے میں دونوں ٹیسٹ میچوں کی شکست کے بعد پاکستانی ٹیم کو اپنے پست حوصلے بحال کرنے کے لیے غیر معمولی کارکردگی دکھانے کے سخت چیلنج کا سامنا ہے۔

ایک عہد ختم ہو سکتا ہے

دورۂ آسٹریلیا کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اعلان

پاکستانی کرکٹ ٹیم آسٹریلوی سرزمین پر 11 ٹیسٹ سیریز کھیل چکی ہے لیکن ابھی تک وہ کوئی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ اس نے 21 سال سے آسٹریلیا میں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیتا ہے۔

پاکستان کی آخری کامیابی دسمبر سنہ 1995 میں سڈنی ٹیسٹ میں تھی جب اعجاز احمد کی سنچری اور مشتاق احمد کی نو وکٹوں کی عمدہ کارکردگی نے اسے 74 رنز سے کامیابی دلائی تھی۔

برسبین کا گابا گراؤنڈ آسٹریلوی ٹیم کا مضبوط گڑھ ہے جہاں وہ آخری 27 ٹیسٹ میچوں میں ناقابل شکست ہے جن میں20 اس نے جیتے ہیں۔

گابا کی وکٹ اس وقت آسٹریلیا کی تیز ترین وکٹ سمجھی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برسبین کا گابا گراؤنڈ آسٹریلوی ٹیم کا مضبوط گڑھ ہے جہاں وہ آخری 27 ٹیسٹ میچوں میں ناقابل شکست ہے جن میں20 اس نے جیتے ہیں

پاکستانی ٹیم نے برسبین میں چار ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں جن میں سے تین میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ ایک ٹیسٹ ڈرا ہوا ہے۔

مصباح الحق سلو اوور ریٹ کی پاداش میں ایک میچ کی معطلی کے بعد دوبارہ پاکستانی ٹیم کی قیادت سنبھالیں گے۔

پاکستانی ٹیم منیجمنٹ لیگ سپنر یاسر شاہ کی فٹنس سے فکر مند ہے جو کمر کی تکلیف کے سبب کرکٹ آسٹریلیا الیون کے خلاف سہ روزہ میچ نہیں کھیل پائے تھے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آسٹریلوی کوچ مکی آرتھر اپنی سابقہ ٹیم کے مدمقابل ہو رہے ہیں۔

مکی آرتھر کو تین سال قبل آسٹریلوی ٹیم کے دورۂ بھارت میں کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والے اختلافات کے بعد کوچ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد آسٹریلوی ٹیم میں متعدد تبدیلیاں کی تھیں جو کارآمد ثابت ہوئیں اور آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کو ایڈیلیڈ کے ڈے نائٹ ٹیسٹ میں شکست دی جس کے بعد سلیکٹرز نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے لیے انہی 12 کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کو برقرار رکھا ہے۔

آسٹریلوی ٹیم پاکستانی بیٹنگ کو بکھیرنے کے لیے فاسٹ بولر مچل سٹارک پر نظریں جمائے بیٹھی ہے جن کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پاکستانی بیٹنگ لائن کو تتر بتر کرنے کا پلان موجود ہے اور آسٹریلوی ٹیم کے پاس سنہری موقع بھی ہے کہ وہ پاکستانی بیٹنگ کی کمزوری سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔

پاکستان کی موجودہ ٹیم میں صرف چار کھلاڑی مصباح الحق، یونس خان، سرفراز احمد اور محمد عامر اس سے قبل آسٹریلیا میں ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں