حضور! چپ کا روزہ توڑیے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مچل سٹارک دوڑتے ہوئے آئے، آف سٹمپ کے باہر ایک اچھی سیمنگ ڈلیوری پھینکی جو سمیع اسلم کے بلے کو ڈراتی ہوئی کیپر کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ لیکن سٹارک واپس بولنگ مارک کی طرف نہیں جا رہے، وہ سمیع اسلم کی جانب کچھ قدم بڑھاتے ہیں اور ایک طنز آلود مسکراہٹ پھینکتے ہیں۔ اس مسکراہٹ میں ایسا زہر چھپا ہے کہ جس کی کاٹ صرف سمیع اسلم کی بیٹنگ کو ہی نہیں، یکسر ان کے وجود کو چیلنج کر رہی ہے۔

یہ منظر آج ایک بار نہیں، بار بار دیکھنے کو ملا۔

یہ رویہ آسٹریلوی بولنگ کا خاصہ ہے، وہ بیٹسمین کے اعصاب پہ سوار ہو کر اس کی صلاحیتوں کو مات دیتے ہیں اور بیٹسمین اپنے تمام ٹیلنٹ بھول کر ردعمل میں اپنے بلے سے جواب دینے کی کوشش میں پویلین لوٹ جاتا ہے۔

یہی رویہ کبھی پاکستانی بولنگ کا خاصہ ہوا کرتا تھا۔ شعیب اختر رن اپ لینے سے پہلے بولنگ مارک پہ کھڑے ہو کر گیند کو یوں ہاتھ میں لہراتے تھے جیسے ان کے ہاتھ میں کوئی گیند نہیں بلکہ راکٹ لانچر ہے جس سے وہ بیٹسمین کی وکٹ ہی نہیں، اس کا وجود تباہ کر چھوڑیں گے۔

یہی رویہ برسبین میں وہاب ریاض اور عامر سے بھی متوقع تھا مگر بری لینتھ اور ڈراپ کیچز کے ساتھ یہ رویہ بھی تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم پایا گیا۔

پاکستان کی بیٹنگ نے حسب توقع آج بھی قوم کو مایوس نہیں کیا۔ آسٹریلوی بولرز کی لائن لینتھ اور رویے کے طفیل پاکستانی بلے بازوں نے کریز پہ آ کے تو جو کیا سو کیا، گراونڈ میں آتے ہوئے ہی سبھی کے اوسان خطا تھے۔

سمیع اسلم نے اگرچہ خاصی دلیری کا مظاہرہ کیا لیکن دوسرے اینڈ پہ آنے والے سبھی ہرجائیوں نے بھی انہی کے جذبات مجروح کیے۔ سمیع کی اننگز دیکھتے ہوئے کبھی تو عجیب سے شکوک و شبہات دماغ میں آنے لگتے کہ کیا موصوف میں ٹیلنٹ ہی اتنا ہے یا پھر یہ مشکوک حرکات کسی پلان کا حصہ ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یقیناً پلان یہ تھا کہ پنک بال کے نرم پڑنے تک اوکھا سوکھا وقت گزارا جائے پھر اس کے بعد سیم اور سوئنگ اتنی موثر نہیں رہے گی اور رنز کرنا آسان ہو جائے گا۔ لیکن یہ کون سمجھائے کہ پلان بنانا اور اس پہ عمل کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔

نہ چاہتے ہوئے بھی تعجب تو ہوتا ہے کہ اگر یہ وہی بیٹنگ لائن اپ ہے جس نے چند ماہ پہلے پاکستان کو ٹیسٹ چیمپیئن بنایا تھا تو یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ کوئی فریب نظر ہے یا کوئی خوف ناک مذاق؟

کم از کم اس میچ کی حد تک تو یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ بیٹنگ کو اس نہج پہ پہنچانے کا سہرا پاکستانی بولنگ کے سر ہے۔ جس طرح کی بولنگ کل پاکستان نے کی، اس کے بعد اخلاقاً ہی پاکستان کو میچ میں واپسی جیسے فضول خیالات دل و دماغ سے نکال دینا چاہیے تھے لیکن پھر بھی یہ بولنگ ہی تھی جس نے آج صبح پاکستان کی قریب المرگ امیدوں کو زندگی بخشی۔

مسئلہ تب ہوا جب وہاب اور عامر دونوں چار چار وکٹیں لے چکے تھے اور ان صاحبان کی پانچویں وکٹ کے چکر میں سارا بولنگ پلان ہوا ہو گیا۔ اتنے رنز تو پاکستان کے سارے مڈل آرڈر نے نہیں کیے جتنے آسٹریلیا نے آخری پارٹنرشپ میں بٹور لیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نقصان یہ بھی ہوا کہ جہاں پاکستانی بیٹنگ کو ڈنر سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے میدان میں اترنا تھا، وہاں ان کی باری تب آئی جب دن ڈھلنے کو تھا اور فلڈ لائٹس میں پنک بال اپنا جادو دکھانے کو تھی۔

اصل دیکھا جائے تو پاکستان کی یہ بیٹنگ لائن آسٹریلیا سے کہیں زیادہ تجربہ کار ہے لیکن سکور کارڈ اس حقیقت کا مذاق اڑاتا نظر آ رہا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔

یا تو آسٹریلیا کی بیٹنگ پاکستان سے بہت بہتر ہے۔

یا پھر پاکستان کی بولنگ آسٹریلیا سے بہت ابتر ہے۔

پہلی بات اس لیے تسلیم نہیں کی جا سکتی کہ اگر آسٹریلیا کی یہی بیٹنگ لائن مچل سٹارک اور ہیزل وڈ جیسوں کا سامنا کر رہی ہوتی تو تین سو رنز بنانا بھی ممکن نہ ہوتے کجا یہ کہ سوا چار سو کا مجموعہ بورڈ پہ دکھائی دیتا۔

دوسرے مفروضے میں وزن اس لیے نظر آتا ہے کہ جس وکٹ پہ آسٹریلوی بولنگ کے سامنے بابر اعظم جیسے باصلاحیت بیٹسمین کے لیے رنز کرنا شدید دشوار تھا وہاں ہینڈزکمب نے اپنے تمام تکنیکی و طبیعیاتی مسائل کے باوجود سینچری کیسے کر لی؟

ایسا ہرگز نہیں ہے کہ وہاب، عامر، راحت یا سہیل خان میں صلاحیت نہیں ہے یا یہ ٹیسٹ کرکٹ کے اتار چڑھاو سے واقف نہیں ہیں۔ بلاشبہ یہ سبھی لڑکے بہت باصلاحیت ہیں اور ماضی میں بڑی پرفارمنسز دے چکے ہیں۔

مسئلہ اعتماد کے فقدان کا ہے۔ اور کرکٹ میں بنیادی چیز ہی اعتماد ہے، ٹیلنٹ فارم اور فٹنس وغیرہ تو بعد کی باتیں ہیں۔ پہلے خود پہ یہ یقین ہونا چاہیے کہ ہاں بھئی ہم کر سکتے ہیں۔

پاکستانی بولرز کو اس معاملے میں آسٹریلیا سے سیکھنا ہو گا۔ چپ کا روزہ توڑنا ہو گا۔ یہ سمجھنا ہو گا کہ یہ وہ مائٹی آسٹریلیا نہیں ہے بلکہ وہ ٹیم ہے جو اپنی پچھلی دو سیریز بری طرح ہار چکی ہے۔ اپنے اندر یہ یقین پیدا کرنا ہو گا کہ وہ دنیا کا بہترین بولنگ اٹیک ہیں، وہ یقین جو مچل سٹارک اور ہیزل وڈ کی باڈی لینگوئج میں دکھائی دیتا ہے۔

اسی بارے میں