’شکر ہے کہ پاکستان کرکٹ میں سکھ لڑکا سامنے آیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ mahindar singh

پاکستان میں حالیہ برسوں میں سکھ برادری کے نوجوان فوج سمیت متعدد شعبوں میں سامنے آئے ہیں وہیں ایک اب سکھ نوجوان قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کے لیے پرامید ہیں۔

رائٹ آرم فاسٹ بولر مہندر پال سنگھ نے حال ہی میں مردان سے نشینل کرکٹ اکیڈمی کی جانب سے ایمرجنگ کرکٹرز میں منتخب ہوئے اور ملتان میں 28 نومبر سے 11 دسمبر تک ٹریننگ مکمل کی۔

مہندر پال سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹریننگ میں مدثر نذر، مشتاق احمد نہ صرف ان کے کھیل کی تعریف کی بلکہ چیئرمین کرکٹ بورڈ شہریار خان نے ملتان کی کرکٹ اکیڈیمی میں ان سے ملاقات میں تعریف کی اور بلکہ خوش ہو کر کہہ کر 'شکر ہے کہ پاکستان کی کرکٹ میں کوئی سکھ لڑکا سامنے آیا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ فاسٹ بولنگ میں سپیڈ تو 130 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہے لیکن ان کے پاس گیند کو ان اور آؤٹ سوئنگ کرنے کی قدرتی صلاحیت ہے جو فاسٹ بولنگ میں سپیڈ سے زیادہ اہم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ mahinder singh pal
Image caption ’ پی سی بی کے چیئرمین نے بھی بولنگ کی تعریف کی‘

مہندر پال سنگھ پنجاب یونیورسٹی میں بی فارمیسی کے طالب علم ہیں اور کرکٹ کھیلنے کی خواہش اپنے والد ڈاکٹر ہرجیت سنگھ کو دیکھ پیدا ہوئی جو خود بھی فاسٹ بولر تھے۔ لیکن فاسٹ بولر وقار یونس سے خاصے متاثر ہوئے اور انھیں اپنا آئیڈل بناتے ہوئے فاسٹ بولنگ میں محنت کی۔

مہندر پال سنگھ نے بتایا کہ اب تربیت مکمل ہو چکی ہے اور اب گریڈ ٹو کرکٹ کھیلیں گے اس کے بعد فرسٹ کلاس کرکٹ اور وہاں سے قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونا ان کا خواب ہے۔

کرکٹ اکیڈیمی میں ایک سکھ لڑکے کو دیکھ کر باقی کرکٹرز کے رویے کے بارے میں بتاتے ہوئے مہندر پال سنگھ نے بتایا کہ پنجاب یونیوسٹی میں بھی وہ فارمیسی کے شعبے میں واحد سکھ سٹوڈنٹ ہیں اور جیسے وہاں باقی طلبہ انھیں دیکھ کر حیران بھی ہوتے ہیں اور ساتھ خوش بھی ہوتے ہیں کہ ہمارے ساتھ سکھ بھی ہے اور ایسا ہی ردعمل کرکٹ اکیڈیمی میں تھا۔

20 سالہ مہندر پال سنگھ کا تعلق تو مردان سے ہے لیکن ان کا خاندان امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے 15 برس پہلے ننکانہ صاحب منتقل ہو گیا تھا۔

مہندر پال سنگھ کے مطابق وہ پرامید ہیں کہ جس طرح سے ٹریننگ اکیڈیمی میں ان کی تعریف کی گئی وہ اس پر پورا اتریں گے اور اپنے کھیل میں مزید نکھار پیدا کریں گے تاکہ سلیکٹرز کی نظروں میں آ سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ mahindar singh
Image caption ’مدثر نذر اور مشتاق احمد سمیت دیگر کوچز بھی میری بولنگ سے متاثر تھے‘

پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے کرکٹ کھیلنے والے مہندر پال سنگھ جہاں سِکھ برادری کی جانب سے ملکی کرکٹ میں اس لیول تک پہنچنے پر خوش ہیں وہیں انھوں نے بتایا کہ سکھ برادری میں پہلے کیونکہ کوئی کرکٹر سامنے نہیں آیا اس وجہ سے ان کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں تھا اور اسی وجہ سے وہ مایوسی کا شکار ہو کر ایک برس تک کرکٹ سے الگ بھی ہو گئے۔

مہندر پال سنگھ نے بتایاکہ کیونکہ ان کے دل میں اپنے برادری کی جانب سے قومی سطح پر کرکٹ کھیلنے کا جذبہ تھا اور جب انھیں کرکٹ کیمپ کے بارے میں معلوم ہوا تو دوبارہ سے محنت شروع کی اور اس میں سلیکٹ ہو گئے۔

اسی بارے میں