جنوبی افریقہ کے ٹیسٹ کھلاڑی الویرو پیٹرسن پر دو سال کی پابندی

پیٹرسن الویرو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ نے سابق ٹیسٹ کھلاڑی پیٹرسن الوریو پر میچ فکسنگ کی معلومات کو چھپانے کے جرم میں دو سال تک ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے کی پابندی عائد کر دی ہے۔

پیٹرسن الیویرو نے جنوبی افریقہ کی جانب سے چھتیس ٹیسٹ اور بائیس ون ڈے میچوں میں حصہ لیا۔

پیٹرسن الویرو پر الزام ہے کہ انھوں نے دوسرے کھلاڑیوں کی جانب سے میچ فکسنگ کی کوششوں کی معلومات ہونے کے باوجود متعلقہ حکام سے تعاون کرنے سے گریز کیا۔

البتہ جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ نے الویرو پیٹرسن پر براہ راست میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزامات کو واپس لے لیا ہے۔

الویرو پیٹرسن گذشتہ دو سالوں سے جنوبی افریقہ کی قومی ٹیم میں شامل نہیں ہیں اور انگلش کاونٹی لنکاشائر کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

چھتیس سالہ الویرو نے کہا کہ وہ جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے خاندان، دوستوں، ہم وطنوں اور مداحوں سے معافی طلب کی ہے۔

الویرو پیٹرسن پر الزام تھا کہ انھوں نے جنوبی افریقہ کی ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں میچ فکسنگ کی کوششوں کی پردہ داری کی تھی۔

الویرو پیٹرسن نے ان الزامات کو تسلیم کیا ہے کہ جب میچ فکسنگ کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے متعلقہ حکام کو مطلع نہیں کیا اور بعد میں تحقیق کاروں سے بھی مکمل تعاون نہیں کیا۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ انھوں نے دوسرے کھلاڑیوں کی میچ فکسنگ کی معلومات کو چھپانے کی کوشش کی اور بعض شواہد کو تلف بھی کیا تھا۔

جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ نے جنوری میں ایک اور کھلاڑی غلام بودی پر میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے جرم میں پابندی عائد کر دی تھی۔

جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے الویرو پیٹرسن کی تحریری گزارشات کا معائنے کرنے کے بعد ان کے خلاف میچ فکسنگ کے الزامات کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں