اظہر علی کا کرارا جواب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جس روز پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف اس اہم ترین ٹیسٹ سیریز کا آغاز کرنا تھا، اس سے ٹھیک دو دن پہلے چیئرمین پی سی بی کا ایک بیان سامنے آیا۔

انہوں نے کہا کہ ون ڈے کی کپتانی درکنار، ون ڈے ٹیم میں تو اظہر علی کی جگہ ہی نہیں بنتی۔ اور اب ہم اس نتیجے پہ پہنچے ہیں کہ ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی بھی سرفراز کو ہی دی جائے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ مصباح کے بعد تینوں فارمیٹ میں سرفراز ہی کپتان ہوں۔'

اگرچہ اس بیان کی ٹائمنگ معنی خیز تھی لیکن بجائے خود یہ بیان کچھ ایسا غیر متوقع بھی نہیں تھا۔

اظہرعلی کے ریکارڈز، ڈیوڈ وارنر کی سنچری

ون ڈے میں اظہر علی کی کپتانی پہ پہلے ہی بہت سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ دورہء انگلینڈ کے بعد تو ذرائع نے یہاں تک بھی انکشافات کر ڈالے کہ اظہر کپتانی چھوڑنے کو تیار ہو گئے ہیں، ان کی شرط بس اتنی سی ہے کہ انہیں ون ڈے ٹیم سے نکالا نہ جائے۔

جواب اس کا اظہر علی نے یوں دیا کہ ویسٹ انڈیز کو ون ڈے سیریز میں کلین سویپ کرنے کے بعد پہلے ٹیسٹ میں ہی ٹرپل سنچری داغ ڈالی۔

لیکن اس سارے فسانے میں ٹیسٹ کپتانی کا اچانک موضوع بحث بن جانا کوئی حسن اتفاق نہیں ہو سکتا۔

اگرچہ پچھلے دو برس میں پاکستانی میڈیا ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی پرفارمنس سے کہیں زیادہ اس مسئلے میں الجھا رہا کہ مصباح کب ریٹائر ہوں گے لیکن مصباح کی جانشینی پہ زیادہ سر کھپانے کی ضرورت یوں محسوس نہیں کی گئی کہ مصباح نے خود ہی اظہر علی کو نائب کپتان مقرر کر دیا تھا۔

اور صرف یہی نہیں، ون ڈے میں بھی اظہر علی کا تقرر مصباح کی تجویز پہ کیا گیا تھا۔

بادی النظر میں دیکھا جائے تو اظہر کی کپتانی پہ سوالات ان کی قیادت میں ٹیم کی کارکردگی کے سبب اٹھائے گئے ہوں گے مگر درحقیقت ان سوالات کی پیدائش کا آغاز اسی وقت ہو گیا تھا جب اظہر کو کپتان بنایا گیا تھا۔

کئی مبصرین تو ہفتوں اسی سوگ میں مبتلا رہے کہ یہ ہو کیسے گیا۔

اب ٹیسٹ میں اظہر کی کپتانی پہ بحث چھڑنے کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ مصباح کی عدم موجودگی میں کیویز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں عبوری کپتان کے فرائض اظہر نے سر انجام دیے تھے۔گو پاکستان وہ میچ ہار گیا مگر ہار کی وجہ اظہر کی کپتانی کی بجائے ناسازگار کنڈیشنز اور پاکستانی بولنگ کے مسائل تھے۔

پاکستان کی کپتانی کا مسئلہ اظہر یا سرفراز کی ذاتی پرفارمنسز یا فین بیس کا نہیں ہے، یہ بحث ہے ایک نظریے کی۔ اس سکول آف تھاٹ کی جس میں، مصباح کے بعد، پاکستان کرکٹ کو داخل ہونا ہے۔

اظہر کی بطور پلئیر اور بطور کپتان بنیادی خاصیت کیا ہے؟

اظہر علی اسد شفیق کی طرح کا نیچرل بیٹنگ ٹیلنٹ نہیں ہے، وہ بابر اعظم کے جیسے دلکش سٹروک بھی نہیں کھیلتا، وہ سرفراز کے جیسا سٹریٹ سمارٹ اور جارح مزاج بیٹسمین بھی نہیں ہے۔

اظہر علی وہ مائنڈ سیٹ ہے جو بے وجہ جارحیت اور ہیروازم کی بجائے اس چیز پہ یقین رکھتا ہے کہ مسلسل محنت اور لگن سے انسان نہایت کم وقت میں اتنا کچھ سیکھ سکتا ہے کہ وہ دوسروں کی توقعات اور اپنے خدشات کو شکست دے سکتا ہے۔

بطور لیگ سپنر اپنے کرئیر کا آغاز کرنے والا یہ کھلاڑی آج پاکستان کا وہ پہلا بیٹسمین بن چکا ہے جس نے ایک ہی سال میں ایک ڈبل سنچری اور ایک ٹرپل سنچری کی ہے۔ وہ پنک بال کرکٹ کا پہلا سنچورین ہے۔ وہ آسٹریلیا میں ڈبل سنچری کرنے والا پہلا پاکستانی بیٹسمین ہے۔

مگر یہ ریکارڈز محض ثانوی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اظہر کا ذاتی ارتقا اور اس تبدیلی کی رفتار ان سبھی ریکارڈز سے کہیں زیادہ ہے۔

اس ارتقا کی بنیاد ہے اظہر کی ذہنی پختگی، جو اس کے سوا اس ٹیم کے کسی کھلاڑی میں اس قدر نہیں ہے۔ اس کی بیٹنگ بھلے دلکش نہ ہو مگر پچھلی صدی کا سب سے بڑا بیٹسمین ویو رچرڈز بھی اس کی اپروچ کی داد دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سیریز شروع ہونے سے قبل ہی اسے ایک بار پھر یہ یاد دہانی کرائی گئی کہ وہ قیادت کے لائق نہیں ہے، اس کی ون ڈے ٹیم میں جگہ ہی نہیں بنتی، اسے چاہئے کہ وہ خود ہی مستعفی ہو جائے۔ اس سارے دباو کا جواب اظہر نے یوں دیا کہ مارک ٹیلر اور مائیکل کلارک سے لے کر بل لاری تک، سبھی اس کی اننگز پہ حیران رہ گئے کہ اتنے محدود شاٹس رکھنے والا پلئیر، بارش کے سبب بارہا تسلسل ٹوٹنے کے باوجود کیسے اتنے فوکس کے ساتھ کریز پہ ڈٹا رہا۔

یہ ایک یادگار اننگز تو تھی ہی مگر یہ ایک مشکل ترین ٹیسٹ اننگز بھی تھی جہاں اظہر کو اپنے ہر ایک ہدف سے پہلے یا تو بارش رکنے کا انتظار کرنا پڑا یا اگلا سورج طلوع ہونے کا۔

یہ اننگز اس بات کی ضامن ہے کہ آگے پاکستان کرکٹ کا مستقبل جو بھی ہو، اظہر کا مستقبل نہایت روشن ہے۔اظہر نے تو اپنا جواب دے دیا ہے۔ اب فیصلہ پاکستان کرکٹ کو کرنا ہے۔

اسی بارے میں