بے مقصد بولنگ، بے معنی کپتانی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جب بولر بے مقصد اٹیک کریں تو کپتان بھی بے معنی فیصلے کرتے نظر آتے ہیں

اعتماد جب حد سے بڑھتا ہے تو وہ شوخی میں بدل جاتا ہے اور شوخی جب مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتی تو وہی شوخی عدم اعتماد میں بدل جاتی ہے۔ اور جب عدم اعتماد آتا ہے تو پھر ہر چیز میں خامیاں جھلکنے لگتی ہیں خواہ وہ گیم پلاننگ ہو یا گیم سینس۔

میلبرن ٹیسٹ کے پہلے ڈھائی دن ہمیں اعتماد سے بھرپور پاکستان اور شکست خوردہ آسٹریلیا دکھائی دیے۔ اگرچہ بارش نے بیسیوں بار کھیل کا تسلسل توڑا مگر پاکستان کے اعصاب مجتمع رہے۔ پاکستان ڈھائی دن تک میچ پہ چھایا رہا۔

سکور بورڈ اتنا حوصلہ افزا تھا کہ مصباح نے اننگز ڈکلئیر کر دی۔

پاکستان میلبرن ٹیسٹ اور سیریز ہار گیا

’میں جانتا ہوں لوگ تیار بیٹھے ہیں‘

پاکستانی بولنگ کا آغاز ہوا اور وہی اعتماد دھیرے دھیرے شوخی میں بدلنے لگا۔ بلا شبہ عامر اور سہیل نے شروع میں بہت زبردست سپیل پھینکے۔ وارنر بالکل بے بس نظر آ رہے تھے۔ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ موصوف کی قسمت یاوری نہ کرے تو فقط دو اچھی گیندوں کے مہمان ہیں۔

پہلے بارہ اوورز میں آسٹریلیا کا سکور 35 رنز تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مگر پھر وہاب ریاض اٹیک کرنے آ گئے۔ پہلی گیند اتنی تیزی سے اندر آئی کہ وارنر کو پتا ہی نہ چلا کیسے یہ ان کے بلے کے اندرونی کنارے سے لگی اور آخر کیوں یہ سٹمپس کو مس کر گئی۔ کراوڈ میں سے حیرت اور خوف میں ملی جلی آوازیں سنائی دیں۔

وہاب نے دوبارہ رن اپ لیا۔ اب کی بار یہ یقینی تھا کہ وارنر کی قسمت کام نہیں آئے گی، اس بار وہ وہاب کے وار سے بچ نہیں پائے گا۔

اب کی بار وہاب آئے اور آف سٹمپ سے خاصی باہر ایک ایسی شارٹ آف لینتھ گیند پھینکی کہ اگر وارنر اسے زناٹے دار تھپڑ رسید کر کے باؤنڈری کے پار نہ بھیجتے تو پیشہ ورانہ بددیانتی کے مرتکب ٹھہرتے۔

اگلی ڈلیوری نو بال تھی جس پہ وارنر نے تین رنز بٹورے۔ پھر ایک مس، پھر ایک سنگل، اور پھر چل سو چل۔ یہ کس کو نہیں معلوم کہ وارنر جیسے بیٹسمین کو اگر اٹھنے کا ایک موقع دے دیا جائے تو پھر وہ میچ ختم کر کے ہی چھوڑتا ہے۔

مگر یہ کہانی صرف وہاب پہ ہی موقوف نہیں۔ یاسر شاہ کی بولنگ اس سے بھی زیادہ 'تباہ کن' تھی۔

یاسر شاہ کو جو فیلڈنگ دی گئی، وہ پچھلے دو روز میں بھرپور بحث کا موجب رہی۔ مصباح کو اس پہ شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سوال یہ اٹھا کہ کیا مصباح کو یاسر پہ اعتماد نہیں تھا؟ یا کہیں معاملہ اس کے برعکس تو نہیں تھا؟

یہ تو واضح ہے کہ مصباح کا پلان یاسر سے اٹیک کروانا نہیں تھا۔ اس کی دو وجوہات تھیں۔ اول یہ کہ وکٹ میں جس طرح کی توڑ پھوڑ متوقع تھی، بارش کے سبب وہ ہو نہ پائی۔ دوم یہ کہ یاسر سے اٹیک صرف تب کروایا جا سکتا ہے جب دوسرے اینڈ پہ رنز روک کر پریشر بلڈ کیا جا رہا ہو۔ اس سیشن میں یہ دونوں چیزیں نہیں ہو رہی تھیں۔

اب ایک بولر میں اتنی گیم سینس تو ہونا چاہئے کہ وہ کپتان کو خود قائل کر سکے کہ اسے کیسی فیلڈ چاہیے۔ اور اگر اس میں اتنی گیم سینس نہیں ہے تو پھر دوسرا آپشن یہ ہے کہ وہ کپتان کی دی گئی فیلڈنگ اور پلاننگ کے مطابق بولنگ کرے۔

یاسر شاہ کے معاملے میں یہ دونوں پہلو خاصے مایوس کن دکھائی دئیے۔ سو جب یاسر شاہ کو مار پڑی تو پاکستان کے باولنگ آپشنز محدود ہونا شروع ہو گئے۔ طرہ یہ کہ سہیل خان کو نجانے کیا سوجھی، تیسرے سپیل میں جب کہ ان کی سپیڈ 125 سے اوپر نہیں جاتی، انہوں نے بھی شارٹ پچ گیندیں پھینکنا شروع کر دیں۔

نتیجہ یہ ہوا کہ جس میچ پہ پاکستان پہلے سات سیشنز میں اپنی بیٹنگ کی بدولت حاوی تھا، اگلے دو سیشنز کی بولنگ کے طفیل اتنے پریشر میں آ گیا کہ پہلی اننگز میں اعتماد سے بھرپور نظر آنے والی بیٹنگ، دوسری اننگز میں خوف سے بھرپور دکھائی دی اور پاکستان نے تاریخ رقم کرنے کا ایک سنہری موقع گنوا دیا۔

آخر کتنے سال لگیں گے یہ سمجھنے میں کہ چار بہترین میجک ڈلیوریز کی تاثیر اسی وقت زائل ہو جاتی ہے جب پانچویں اتنی بری ہو کہ باونڈری کی سیر اس کا مقدر بن جائے۔

اور یہ صرف اس پاکستانی بولنگ اٹیک کا ہی نہیں، ہر دور میں پاکستانی بولنگ کا یہی مسئلہ رہا ہے۔ اور ہر بار آسٹریلیا کے دورے پہ یہ مسئلہ زیادہ واضح نظر آتا ہے کیونکہ یہ وہ وکٹیں ہیں جہاں ایک انچ کی غلطی بھی اچھے اچھے بولرز کا ریکارڈ خراب کر دیتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اچھی بولنگ ایک ڈسپلن کا نام ہے۔ درست لائن اور لینتھ ڈھونڈنا، اور پھر نتائج سے بے فکر ہو کر اس لائن پہ بولنگ کئے چلے جانا، یہاں تک کہ بیٹسمین تھک ہار کر صبر کا دامن چھوڑ بیٹھے اور غلطی کرنے پہ مجبور ہو جائے۔ یہ وہ کام ہے جو ہیزل ووڈ اور جیکسن برڈ نے کیا۔

اچھا بولنگ اٹیک وہ نہیں ہوتا جس میں ہر کوئی لیڈر بننے میں مصروف ہو۔ آسٹریلیا کی مثال لیجیے۔ انہوں نے یہ طے کیا ہوا ہے کہ سٹارک اٹیک کرے گا اور باقی تینوں بولرز اس کو سپورٹ کریں گے۔ آپ پورا میچ اٹھا کر دیکھیے اور ڈھونڈیے کہ کتنی بار ہیزل ووڈ، برڈ یا لائن نے سٹمپس کے باہر اٹیکنگ لائنز پہ بولنگ کی۔ یہ کام صرف سٹارک کا تھا اور سٹارک نے ہی کیا۔

پاکستانی بولنگ کو یہ طے کرلینا چاہیے کہ ان کو اپنے کپتان کا گیم پلان فالو کرنا ہے یا اپنا گیم پلان خود بنانا ہے۔ اگر انہیں کپتان کا پلان ناقابل فہم دکھائی دیتا ہے تو بھی کم از کم اپنے تئیں پورے اٹیک کا پلان طے کرنا ہو گا جس میں ہر ایک کو اپنے رول کا پتا ہو۔ ایسے نہیں کہ 'شارٹ پچ مجھے دے دے اور فل لینتھ تو کرا لے۔'

جب بولر بے مقصد اٹیک کریں تو کپتان بھی بے معنی فیصلے کرتے نظر آتے ہیں۔

اسی بارے میں