کرکٹ کی تاریخ میں دھونی کی شمولیت یقینی کیوں ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرکٹ کی دنیا میں شاندار کارکردگی کے حوالے سے مہندر سنگھ دھونی کا شمار انڈیا کے مقبول ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے

انڈیا کے معروف کرکٹر مہندر سنگھ دھونی نے انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ اور ٹی ٹؤنٹی میچوں کی سیریز سے پہلے انڈین ٹیم کی کپتانی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

وزڈن کرکٹ کے انڈین مدیر سریش مینن نے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ وکٹ کیپر بیٹسمین مہندر سنگھ دھونی کرکٹ کی تاریخ کے سب سے پرسکون کرکٹر کیسے بن گئے۔

دھونی ون ڈے اور ٹی 20 کی کپتانی سے بھی مستعفی

دھونی نہ صرف ایک پرسکون کپتان ہیں بلکہ وہ دوسرے کے لیے سکون کا سبب ہیں۔

وہ مسکراتے ہیں، ناپسندیگی کا اظہار کرتے ہیں، اپنے بولروں سے گفتگو کرتے ہیں تاہم ان کا فوری پیغام صاف ہے کہ کوئی ان کے بارے میں شرط نہیں لگا سکتا کہ وہ کیا سوچ رہے تھے۔؟

دھونی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کی نسبت ایک روزہ کرکٹ کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور وہ انڈین کرکٹ کی محدود فارمیٹ کے بہترین کپتان ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مہندر سنگھ دھونی نے 199 ٹیسٹ میچوں میں انڈیا کی قیادت کی اور 110 میں کامیابی حاصل کی

مہند سنگھ دھونی کی قیادت میں انڈین ٹیم نے سنہ 2007 میں ٹی ٹوئنٹی، سنہ 2011 میں کرکٹ کا عالمی کپ اور سنہ 2013 میں چیمپیئنز ٹرافی جیسے بڑے ٹورنامنٹس جیتے۔

وہ کرکٹ میں صحیح وقت اور صحیح مقام پر تجربہ کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ جوا کھیل کر اپنے لیے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

آج سے دس برس پہلے جب انھوں نے پہلے ٹی ٹوئنٹی کے فائنل میچ میں جوگندر شرما کو گیند تھمائی تو اس وقت انڈیا میں شاید سب کا سانس رک گیا ہو۔

اگرچہ جوگندر شرما نے اس اوور میں پاکستان کی آخری وکٹ حاصل کر کے انڈیا کو کامیابی دلا دی تھی لیکن اس نے ایک غیر ارادی نتیجے کے طور پر کرکٹ کے چہرے کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دھونی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کی نسبت ایک روزہ کرکٹ کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور وہ انڈین کرکٹ کی محدود فارمیٹ کے بہترین کپتان ہیں

دھونی جو جدید کرکٹ میں میچ جتوانے والے سب سے بڑے کھلاڑی ہیں، ان کی ٹائمنگ اس مرتبہ بھی بلکل درست ثابت ہوئی اور انھوں نے وراٹ کھولی کی کپتانی میں انڈین ٹیم کی کامیابیوں کے بعد اپنے مستقبل کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب پہلے ہی دے دیا ہے۔

اب صرف ایک سوال کا جواب دینا باقی ہے کہ آیا دھونی خود کو سنہ 2019 کے عالمی کپ کی ٹیم میں دیکھتے ہیں۔

اگرچہ دھونی سنہ 2019 میں کھیلے جانے والے عالمی کپ تک 39 برس کے ہو جائیں گے تاہم فٹنس ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہو گی۔

کرکٹ کی تاریخ میں دھونی کی جگہ یقینی ہے، صرف ایک کھلاڑی اور کپتان کے طور پر نہیں۔ وہ ایک باصلاحیت گروپ لیڈر تھے جو غیر روایتی علاقوں سے ابھر کر سامنے آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دھونی کی قیادت میں انڈین ٹیم نے سنہ 2007 میں ٹی ٹوئنٹی، سنہ 2011 میں کرکٹ کا عالمی کپ اور سنہ 2013 میں چیمپیئنز ٹرافی جیسے بڑے ٹورنامنٹس جیتے

انڈیا کی کرکٹ کے ابتدائی کپتان مقامی رائلز تھے، پھر وہ آئے جنھوں نے مقامی رائلز کے لیے کام کیا جیسا کہ لالہ امرناتھ اور وجے ہزارے۔

اس کے بعد انڈیا کی کرکٹ میں گلاب رائے رام چند، ناری کنٹریکٹر، اجیت واڈیکر جیسے کھلاڑی آئے۔

جب سچن تندولکر نے اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا تو اس وقت دھونی صرف آٹھ سال کے تھے۔

کچھ عرصے بعد سچن کا دھونی کے بارے میں کہنا تھا 'میں اس بات سے خوش ہوں جس طرح دھونی خود کو منظم کرتا ہے، وہ تیز دماغ کے ساتھ ایک متوازن شخص ہے، اس کی اپروچ واضح اور سادہ ہے۔'

دھونی کی واضح اور سادہ اپروچ کا ایک مظاہرہ اس وقت ہوا جب انھوں نے سنہ 2008 میں آسٹریلیا کے خلاف موہالی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کا آخری اوور امت مشرا کو کرنے کا کہا اور امت مشرا نے آسٹریلوی کھلاڑی مائیکل کلارک کو آؤٹ کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دھونی کی قیادت میں انڈین ٹیم کی ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں کی رینکنگ میں اضافہ ہوا

بعد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دھونی نے اپنی فراست کا اعتراف کرتے ہوئے کہا 'یہ ایک تکا تھا۔'

دھونی کی قیادت میں انڈین ٹیم کی ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں کی رینکنگ میں اضافہ ہوا۔

مہندر سنگھ دھونی نے 199 ٹیسٹ میچوں میں انڈیا کی قیادت کی اور 110 میں کامیابی حاصل کی۔

ان کی کپتانی میں انڈیا نے 41 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں کامیابی حاصل کی جو کسی بھی کپتان کی بہترین کارکردگی ہے۔

کرکٹ کی دنیا میں شاندار کارکردگی کے حوالے سے مہندر سنگھ دھونی کا شمار انڈیا کے مقبول ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔

ان کی زندگی پر گذشتہ سال ایک فلم بھی بنی تھی جس کا نام 'ایم ایس دھونی، دی انٹولڈ سٹوری' تھا یعنی دھونی کی زندگی کی وہ کہانی جو آپ نے پہلے نہیں سنی تھی۔

اسی بارے میں