"چند روز اور۔۔۔فقط چند ہی روز"

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حفیظ نے طویل عرصے بعد کپتانی کے فرائض سرانجام دیے ہیں

عمر اکمل وننگ شاٹ کھیلنے کے عین قریب تھے کہ ہیڈ نے لیگ سٹمپ کے باہر وائیڈ بال پھینک دی۔ عمر اکمل پہ کیا گزری، یہ تو نہیں معلوم مگر میلبرن کا کراوڈ خوشی سے جھوم اٹھا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان بھر میں کروڑوں چہرے کھل اٹھے۔ ڈھائی ماہ پہ محیط پے درپے شکستوں کا سلسلہ بالآخر ختم ہوا۔

یوں تو آج کل کی ون ڈے کرکٹ میں 221 کا ہدف کوئی وقعت نہیں رکھتا مگر جب تعاقب کرنے والی ٹیم پاکستان ہو تو ایک عجیب دھڑکا سا لگا رہتا ہے کیونکہ آسان میچ ہارنے میں پاکستان کی شہرت کوئی راز نہیں ہے۔

مچل سٹارک نے جب پہلے اوور کی چوتھی گیند آف سٹمپ کے باہر فل لینتھ پر پھینکی تو محمد حفیظ لیگ سٹمپ پہ کھڑے تھے۔ تیز رفتار گیند حفیظ کے بلے کے قریب پہنچی اور ان کے پاوں ایک بار پھر کریز میں منجمد دکھائی دیے۔ بلا کسی میکانکی عمل کے تحت تیزی سے حرکت میں آیا اور گیند بلے کے کنارے کو چھو کر دوسری سلپ میں موجود سٹیون سمتھ کے ہاتھوں تک گئی مگر سمتھ نے، شاید ممکنہ شادی مرگ کے خوف سے، کیچ ڈراپ کر دیا۔

اور میچ ڈراپ کر دیا۔

یہ آج کے میچ میں آسٹریلیا کی پہلی غلطی نہیں تھی مگر پاکستان کی یہ واحد بڑی غلطی تھی۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد پاکستان نے کہیں کوئی ایسی غلطی نہیں کی جس کا میچ پہ بلاواسطہ اثر پڑا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنید خان نے میچ کے ابتدا میں اہم کامیابیاں حاصل کئیں

جنید خان کی واپسی کے طفیل بولنگ نے تو واقعی لاجواب پرفارمنس دی مگر اصل امتحان پھر بھی بیٹنگ کا ہی تھا جو پچھلے میچ میں دو سو بھی نہیں کر پائی تھی۔ لیکن آج بیٹنگ نے بھی ذہنی پختگی کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ حفیظ نے چند غیر ذمہ دارانہ شاٹس کھیلے لیکن بحیثیت مجموعی یہ ایک سمارٹ اننگز تھی۔ پھر قسمت نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا اور حفیظ اس ناقابل اعتبار بیٹنگ لائن کی نیا ساحل کے قریب لے آئے جسے بعد میں شعیب ملک نے گھر کا رستہ دکھایا۔

پاکستان کی اس جیت میں سب سے خوش آئند پہلو یہ تھا کہ پوری ٹیم ایک یونٹ بن کر ایک ہی پلان کے تحت ایک سمت میں بڑھتی نظر آئی۔ یہ ’پاکستان ٹائپ‘ جیت نہیں تھی بلکہ بھرپور ٹیم ورک کا نتیجہ تھی۔

ایک طویل عرصے کے بعد ہمیں بولنگ میں ایسا ڈسپلن اور بیٹنگ میں ذہنی پختگی دیکھنے کو ملی۔ حفیظ نے بہت اچھی کپتانی کی۔ سپنرز کو بھی بہت اچھے طریقے سے استعمال کیا اور آسٹریلیا کی ہر غلطی کا فائدہ اٹھایا۔

اب ایک طرف وہ ٹیم ہے جو پچھلے ڈھائی ماہ کے سفر میں پہلی بار جیتی ہے اور دوسری طرف وہ ٹیم ہے جو پچھلے ڈھائی ماہ میں پہلی بار ہاری ہے۔ اور یہی نہیں، اپنے گھر میں ہاری ہے۔

کیا پاکستان اس موقع کا فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

سٹیون سمتھ کے لیے پریشان کن بات یہ ہے کہ یہ میچ وہ خالصتا ذاتی اپروچ کے سبب ہارے ہیں۔ سیریز کے آغاز سے قبل جب سمتھ نے یہ کہا تھا کہ انہوں نے نئے لڑکوں کو بتا دیا ہے کہ وہ جارحانہ کرکٹ کھیلیں تو شاید وہ یہ بات بھول گئے تھے کہ پاکستان کے پاس ون ڈے میں بولنگ آپشنز نہ صرف تعداد میں بلکہ معیار میں بھی بہتر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سمتھ نے پاکستان کے بلے بازوں کو دباؤ میں رکھنے کی پوری کوشش کی

دونوں میچز میں آسٹریلیا اپنی بیٹنگ اپروچ کے سبب مشکلات کا شکار دکھائی دیا اور سمتھ کی اپروچ پاکستانی سپن کے آگے بے بس نظر آئی۔ انہوں نے آج کپتانی میں بھی خاصی غلطیاں کی۔ اہم مواقع پہ وہ پریشر میں دکھائی دئیے۔

سو پاکستان کے پاس یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ ون ڈے کرکٹ میں بہتری کے سفر کو جاری رکھے۔ سٹیو سمتھ بہرحال ایک نوآموز کپتان ہیں۔ وہ حال ہی میں بہت برا وقت دیکھ چکے ہیں اور ایک بار گر جائیں تو دوبارہ اٹھنے میں وقت لیتے ہیں۔ پاکستان کو اگلے میچز میں فتح کے لیے بالخصوص انہیں ٹارگٹ کرنا ہو گا۔

اس میں دو رائے نہیں کہ پاکستان کے لیے یہ ایک طویل سفر رہا ہے جس میں آج پہلی بار انہیں فتح چکھنے کا موقع ملا لیکن اب اس تھکی ہاری ٹیم کے پاس ایک بہترین موقع ہے کہ گھر لوٹنے سے پہلے چند فتوحات اپنی مٹھی میں کر لے اور ایان چیپیل کو یہ باور کرا دے کہ ان کا بیان نہ صرف اخلاقی بلکہ عقلی طور پہ بھی نا مناسب تھا۔

صرف تین میچ باقی ہیں۔ پاکستان اگر آج کی سی ذہنی پختگی صرف چند روز اور برقرار رکھنے میں کامیاب رہا تو ممکن ہے تین ماہ کا یہ سفر یکسر رائیگاں ثابت نہ ہو۔ بہر طور یہ ایک نہایت تھکا دینے والا ٹور تھا، اس کا پھل کچھ تو میٹھا ہونا چاہئے۔

فیض یاد آتے ہیں

چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز