اتنی بری فیلڈنگ کے ساتھ میچ نہیں جیت سکتے: مکی آرتھر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس میچ میں شکست کے بعد آسٹریلیا نے سیریز میں ناقابلِ شکست 3-1 کی برتری حاصل کر لی ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ون ڈے سیریز کے چوتھے میچ میں اتوار کو پاکستانی کھلاڑیوں کی غلطیوں کے باعث ان پر برس پڑے ہیں۔

سڈنی میں کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر353 رنز بنائے تھے اور پاکستان کو جیت کے لیے ایک مشکل ہدف دیا تھا۔ تاہم آسٹریلیا کے اتنے بڑے سکور بنانے میں ناقص پاکستانی فیلڈنگ نے بھی کردار ادا کیا۔

اس میچ میں شکست کے بعد آسٹریلیا نے سیریز میں ناقابلِ شکست 3-1 کی برتری حاصل کر لی ہے۔

مکی آرتھر کو ٹیم سے ایک مرتبہ پھر ناقص فیلڈنگ کی شکایت تھی اور وہ اس پر انتہائی برہم ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم آسٹریلیا جیسی ٹیم کا مقابلہ نہیں کر سکتے جب آپ ان کے پانچ اولین بلے بازوں کو اتنے مواقعے مہیا کریں گے۔ یہ بالکل ناقابلِ قبول ہے۔ ہم نے بطور ایک کرکٹ ٹیم اہنے لیے جس معیار کا تعین کیا ہے ہم اس معیار پر پورے نہیں اترے۔ کیا یہ ہنر کی کمی، رویہ، یا تھکاوٹ ہے ؟

پاکستان کی جانب سے کامیاب ترین بلے باز شرجیل خان تھے جنھوں نے 47 گیندوں پر 74 رنز بنائے مگر اس سے قبل آسٹریلیا کی اننگز میں انھوں نے دو کیچ چھوڑے تھے۔ ان کے آوٹ ہونے کے بعد پاکستان کی فتح کے امکان انتہائی کم رہ گئے۔

ادھر ڈیوڈ وارنر نے 11 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 130 رنز بنائے اور فیلڈنگ میں انھوں نے دو کیچ پکڑے۔

ڈیوڈ وارنر کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے خوش ہیں کہ سیریز کے آخری میچ سے پہلے ہی سیریز کا ان کے حق میں فیصلہ ہو گیا ہے۔

سڈنی میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ اوپنر ڈیوڈ وارنر کی سنچری اور ہیڈ اور میکسول کی نصف سنچریوں کی بدولت ایک بڑا سکور بنانے میں کامیابی رہی۔

پاکستان کی جانب سے فیلڈنگ میں کئی غلطیاں سامنے آئیں لیکن حسن علی نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے10 اوورز میں 52 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ان کے کریئر کی بہترین کارکردگی ہے۔

اسی بارے میں