ناقص فیلڈنگ اور ڈیوڈ وارنر ہماری شکست کی اصل وجہ ہیں: مکی آرتھر

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے کرکٹ آسٹریلیا کی ویب سائٹ پر دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ دورہ آسٹریلیا میں مکمل ناکامی کی اصل وجہ ٹیم کی ناقص فیلڈنگ اور آسٹریلوی بلے باز ڈیوڈ وارنر کی شاندار کارکردگی ہے۔

پاکستان ٹیم کا حالیہ دورہ آسٹریلیا ناکامی کا ایک نہ تھمنے والے سلسلہ تھا جہاں آٹھ میچوں میں سے پاکستان کو سات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

فیلڈنگ کا شعبہ کبھی بھی پاکستان کا خاصہ نہ تھا لیکن سڈنی میں کھیلے گئے ایک روزہ میچ میں شرمناک حد تک خراب فیلڈنگ پاکستانی کوچ کے لیے بہت تکلیف دہ تھی۔

پاکستانی کرکٹ کا نقطۂ انجماد

’مگر ہمیں کپتان بدلنا ہے‘

دوسری جانب ڈیوڈ وارنر کی برق رفتار بیٹنگ ان کے لیے پورے دورے میں درد سر بنی رہی۔ انھوں نے کہا: 'ڈیوڈ وارنر کی بیٹنگ اور ہماری خراب فیلڈنگ دونوں ٹیموں کے درمیان مرکزی فرق تھا۔'

ٹیسٹ میچوں میں تین صفر سے شکست اور ایک روزہ میچوں میں چار ایک سے شکست کے باوجود مکی آرتھر کو پاکستان کی بیٹنگ میں کچھ امید کی کرن نظر آئی۔

روایتی طور پر ایشیائی اور بالخصوص پاکستانی بلے باز آسٹریلیا کی تیز پچوں پر ہمیشہ ناکام رہے ہیں لیکن اس دورے میں ٹیسٹ میچ، اور پھر ایک روزہ میچوں میں بابر اعظم اور شرجیل خان کی بیٹنگ نے پچھلے سات ماہ سے پاکستان کی کوچنگ کرنے والے آرتھر کو متاثر کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بابر اعظم کی بیٹنگ سے مکی آرتھر بہت متاثر ہوئے

مکی آرتھر نے کہا کہ باؤلرز کی کارکردگی مجموعی طور پر مناسب رہی لیکن خراب فیلڈنگ کی وجہ سے وہ بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکے۔

'آپ یقین کریں یا نہ کریں، ہم نے فیلڈنگ پرسب سے زیادہ دھیان دیا تھا۔ ہم سات مہینے سے ٹیم کے ساتھ محنت کر رہے ہیں تاکہ ان کی صحت، فٹنس اور فیلڈنگ میں بہتری آسکے لیکن کچھ درستگی کی باوجود حقیقت یہ ہے کہ ہم بقیہ ٹیموں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا: 'ہمارا اگلا دورہ ویسٹ انڈیز کا ہے اور ایک دفعہ پھر ہماری ساری توجہ فٹنس اور فیلڈنگ پر مرکوز ہوگی۔پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) ختم ہونے کے بعد ہم کیمپ لگائیں گے اور مزید محنت کریں گے۔'

مکی آرتھر نے اعتراف کیا کہ نتائج کے اعتبار سے دورہ آسٹریلیا بہت مایوس کن تھا۔

'یہاں آنے سے پہلے ہم بہت پر امید تھے کہ اچھا کھیل کے جائیں گے، خاص طور پر ٹیسٹ میچوں میں ہمیں بہت امید تھی۔ البتہ ایک روزہ میچوں میں ہمیں بہت بہتری لانی ہے۔ ہم اس طرز کی کرکٹ میں آٹھویں درجے پر ہیں جبکہ آسٹریلیا پہلے درجے پر اور اس سیریز کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان فرق صاف ظاہر ہے۔'

مکی آرتھر نے پاکستان کی ہار پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈنگ کے علاوہ دوسری بڑی مشکل ڈیوڈ وارنر کو قابو کرنا تھا جنھوں نے پاکستان کے تمام حربوں کو ناکام بناتے ہوئے ٹیسٹ میچوں میں 71 کی اوسط کے ساتھ 356 رنز سکور کیے، جن میں دو برق رفتار سینچریاں بھی شامل تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے کوچ مکی آرتھر آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر کے ساتھ محو گفتگو

ایک روزہ میچوں میں وارنر کی کارکردگی مزید بہتر ہوئی اور پانچ میچوں میں انھوں نے 73 کی اوسط سے 367 رنز بنائے اور یہاں بھی دو سینچریاں داغ دیں۔

'وارنر کی بیٹنگ دونوں ٹیموں کے درمیان اصل فرق تھی۔ ایک میچ میں انھوں نے 130 رنز بنائے اور اگلے میچ میں 170 سے زیادہ رنز بنائے، اور وہ بھی انتہائی تیز رفتاری سے بیٹنگ کرتے ہوئے۔ اس قسم کی بیٹنگ سے ہدف 310 کے بجائے 370 تک پہنچ جاتا ہے جس کو حاصل کرنا تقریباٌ ناممکن ہو تا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں