’چار میچ ہار جاؤ تو لوگ برا بھلا کہنے لگتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصابح الحق کا کہنا تھا کہ 'ہمارے پاس ٹیلنٹ ہے لیکن انہیں گروم کرنے کا موقع نہیں مل رہا‘

پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ٹیم کو آسٹریلیا میں اچھا کھیلنا چاہیے تھا، وہ ایسا نہیں کر سکی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ٹیم کو برا ہی سمجھ لیا جائے۔

فیصل آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب تک بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کپتان کون ہے۔

* کیا مصباح کو چلے جانا چاہیے؟

عوامی رویے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’چھ سال اچھا کھیلنے کے بعد محض چار میچ ہار جاؤ تو لوگ برا بھلا کہنے لگتے ہیں۔ ‘

’جب لوگ آ کر یہ کہیں گے کہ خود شرم کریں، کرکٹ چھوڑ دیں، تو آئندہ کوئی بھی کپتان نہیں بننا چاہے گا۔‘

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ’اگر لوگوں کی سوچ ہر اننگز اور میچ کے بعد بدلے گی تو ٹیم کی کارکردگی بھی ایسی ہی رہے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ڈومیسٹک کرکٹ کو بہتر کرنا ہوگا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کھلاڑیوں کی گرومننگ کی ضرورت ہے۔ اگر ہم آسٹریلیا، انگلینڈ اور ساؤتھ افریقہ جا کر مقابلہ کر رہے ہیں تو کھلاڑیوں کو وہاں زیادہ سے زیادہ تجربہ دینا ہوگا۔ ہر سال یا دو تین سال میں کچھ کھلاڑیوں کو وہاں بھیجنا ہوگا، پھر چاہے وہ اکیڈمی میں ہی کھیلیں۔ تاکہ وہ وہاں کے ماحول سے آشنا ہو جائیں۔‘

مصابح الحق کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس ٹیلنٹ ہے لیکن انہیں گروم کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کا حل یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلیں۔

ٹیم کی سلیکشن کے حوالے سے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ’کمیٹی اپنی طرف سے بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کرتی ہے لیکن میچ میں کوئی اچھا کھیلتا ہے کوئی نہیں۔‘

اسی بارے میں