دوسری پاکستان سپر لیگ کا آغاز آج سے متحدہ عرب امارات میں

پی ایس ایل تصویر کے کاپی رائٹ PSL

دوسری پاکستان سپر لیگ کا میلہ جمعرات سے متحدہ عرب امارات میں سج رہا ہے جس کا اختتام پانچ مارچ کو ہوگا۔

دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں ہونے والی رنگا رنگ تقریب کے بعد افتتاحی میچ دفاعی چیمپین اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان کھیلا جائے گا۔

٭ ’پی ایس ایل سے کاروبار پر فرق تو پڑتا ہے‘

گذشتہ سال کھیلے گئے فائنل میں مصباح الحق کی قیادت میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو چھ وکٹوں سے شکست دی تھی۔

دوسری پاکستان سپر لیگ میں بھی گذشتہ سال کی طرح پانچ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، کراچی کنگز اور لاہور قلندر شامل ہیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی قیادت مصباح الحق کررہے ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سرفراز احمد کی قیادت میں میدان میں اترے گی البتہ دیگر تین ٹیموں کی قیادت میں تبدیلی عمل میں آئی ہے۔

پشاور زلمی کی قیادت شاہد آفریدی کی جگہ ڈیرن سیمی سنبھالیں گے۔ لاہور قلندر نے اظہر علی کی جگہ برینڈن مک کلم کو کپتان مقرر کیا ہے جبکہ کراچی کنگز کے کپتان شعیب ملک کی جگہ کمار سنگاکارا ہوں گے۔

پاکستان سپر لیگ کی تین فرنچائزز کو 13 غیرملکی کرکٹرز کی جانب سے مقابلے سے دستبرداری اختیار کرنے کے بعد اپنے سکواڈز میں ردوبدل کرنا پڑا ہے۔

پشاور زلمی نے الیکس ہیلز، محمد شہزاد اور شکیب الحسن کی جگہ مارلن سیمیولز، آندرے فلیچر اور تلکارتنے دلشن کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔

لاہور قلندر نے ڈواین براوو، شان ٹیٹ اور اینٹن ڈیوکچ کی جگہ جیسن روئے، کرس گرین اور جیمز فرینکلن کو ٹیم میں جگہ دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PSL

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے کارلوس بریتھ ویٹ، ڈیوڈ ولی، روومین پاول اور محمد نبی کی جگہ نیتھن مک کلم، تشارا پریرا اور رلی روسو سے معاہدے کیے ہیں۔

کوئٹہ نے معین علی کو اپنے سکواڈ میں شامل کیا تھا لیکن وہ عمرے کی ادائیگی کی وجہ سے سپر لیگ میں شرکت سے معذرت کرچکے ہیں۔

ان کے بعد بریڈ ہوج کو ٹیم میں شامل کیا گیا لیکن ان کی جانب سے بھی معذرت کے بعد محمود اللہ کو سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ نے آندرے رسل پر ڈوپنگ کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر ایک سالہ پابندی عائد ہونے کے بعد سٹیون فن کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔

پاکستان سپر لیگ میں مجموعی طور پر 24 میچز کھیلے جائیں گے۔ دبئی 13 اور شارجہ 10 میچوں کی میزبانی کرے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بار فائنل لاہور میں کرانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن ( فیکا) نے بین الاقوامی کرکٹرز کو متنبہ کیا تھا کہ وہ فائنل کے لیے لاہور جانے سے گریز کریں۔

تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ یقین دلایا ہے کہ تمام کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں