پاکستان سپر لیگ سے نئے ٹیلنٹ کو کتنا فائدہ؟

حسن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ سال محمد نواز اور حسن علی کا ٹیلنٹ سامنے آیا تھا اور یہ دونوں پاکستانی ٹیم کا حصہ بنے تھے

پاکستان سپر لیگ کیا صرف ان کھلا ڑیوں کے لیے ہے جو اپنا وسیع تجربہ لیے میدان میں اتریں اور چھا جائیں یا اس ایونٹ میں نئے کھلاڑیوں کے لیے بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع موجود ہیں؟

یہ سوال بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ کیا پاکستان سپر لیگ سے اسی طرح کا ٹیلنٹ سامنے آئے گا جس طرح انڈیا کی آئی پی ایل سے سامنے آرہا ہے؟

اگر آئی پی ایل پر نظر ڈالیں تو اس لیگ نے کئی نئے کھلاڑیوں کو اپنا ٹیلنٹ دنیا کو دکھا کر انڈین کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا ہے ان کھلاڑیوں میں شیکھر دھون، منپریت گونی، اجینکیا ریہانے، سٹورٹ بنی، بریندر سرن، لوکیش راہل، ہاردک پانڈیا اور کرون نائر قابل ذکر ہیں۔

روندر جایجا اور یوسف پٹھان اگرچہ بین الاقوامی کرکٹ میں آچکے تھے لیکن آئی پی ایل نے انھیں بھرپور اعتماد دیا جبکہ سریش رائنا اور اشیش نہرا نے آئی پی ایل کھیل کر انڈین ٹیم میں دوبارہ جگہ بنائی۔

پاکستان سپر لیگ کھیلنے والی پانچوں فرنچائزز نے پہلے ٹورنامنٹ کی طرح اس بار بھی متعدد باصلاحیت کرکٹرز کو سامنے لانے کا موقع فراہم کیا ہے۔

گذشتہ سال محمد نواز اور حسن علی کا ٹیلنٹ سامنے آیا تھا اور یہ دونوں پاکستانی ٹیم کا حصہ بنے تھے۔

پاکستان سپر لیگ کے سربراہ نجم سیٹھی پراعتماد ہیں کہ یہ لیگ مستقبل کے کرکٹرز کو سامنے لانے اور پاکستانی ٹیم کو نیا ٹیلنٹ فراہم کرنے کے ضمن میں اہم کردار ادا کرے گی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ انڈیا میں ٹیلنٹ پہلے سے موجود تھا لیکن آئی پی ایل نے ان باصلاحیت کرکٹرز کو اعتماد دیا کہ وہ دنیا کی کسی بھی ٹیم کا مقابلہ کرسکتے ہیں اورجب اس طرح کا اعتماد آپ میں آجائے تو آپ ناقابل شکست بن جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ نوجوان کرکٹرز سپر لیگ میں صف اول کے غیرملکی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر تجربہ حاصل کرسکتے ہیں

وسیم اکرم کہتے ہیں کہ آئی پی ایل میں بھی دو تین سال لگے کہ اس سے انڈیا کو اچھے کرکٹرز ملے۔پاکستان سپر لیگ کا ابھی صرف ایک ٹورنامنٹ ہوا ہے لیکن آنے والے برسوں میں اس لیگ سے بھی اچھے کرکٹرز سامنے آئیں گے۔

وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ نوجوان کرکٹرز سپر لیگ میں صف اول کے غیرملکی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر تجربہ حاصل کرسکتے ہیں، انھیں عصرحاضر کی کرکٹ کا پتا چل سکتا ہے کہ آج کل کی کرکٹ کا مائنڈ سیٹ کیا ہے۔ پاکستان سپر لیگ ان کرکٹرز کو تیار کرے گی یہ نہیں کہ کرکٹرز پاکستانی کرکٹ ٹیم میں جاکر تیار ہوں۔

پشاور زلمی کے سربراہ جاوید آفریدی کا کہنا ہے کہ ان کی فرنچائز نے دنیا کے مختلف ملکوں میں نیا ٹیلنٹ تلاش کیا ہے اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نوجوان باصلاحیت کرکٹرز کو موقع دیے بغیر آپ پاکستانی کرکٹ کا مستقبل روشن نہیں کرسکتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں