اب بھی سچن تندولکر کوہلی سے بہت آگے ہیں: رکی پونٹنگ

سچن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوہلی کا سچن تندولکر کے ساتھ کوہلی کا موازنہ کرنا جلدبازی ہوگی: پونٹنگ

انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان کا شمار موجودہ دور کے بہترین بیٹسمینوں میں ہوتا ہے اور سال 2016 میں وہ دنیا کے بہترین بیٹسمین کے طور پر اے بی ڈی ویلیئرز، جو روٹ، کین ولیمسن اور ڈیوڈ وارنر سے بہتر کاکردگی دکھانے میں کامیاب رہے۔

اپنی موجودہ فارم کی وجہ سے 28 سال کے کوہلی کی بین الاقوامی سطح پر محدود اوورز کی کرکٹ میں بیٹنگ کی رینکنگ اول اور ٹیسٹ کرکٹ دوسری پوزیشن ہے۔

کپتان وراٹ کوہلی کا اگلا امتحان آسٹریلیا کے خلاف اپنی ہی زمین پر کھیلی جانے والی سیریز ہے۔ بارڈر،گواسکر ٹرافی وراٹ کوہلی کے لیے ایک بار پھر خود کو ثابت کرنے کا موقع ہے۔

آسٹریلیا اور انڈیا کے درمیان چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 23 فروری سے پونے میں شروع ہوگا۔

اس سیریز سے قبل آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کے لیے انڈیا میں سیریز آسان نہیں ہوگی۔

پونٹنگ نے کوہلی کو خطرناک بلے باز قرار دیا اور کہا کہ آسٹریلیا کی ٹیم کو وراٹ کوہلی کو قابو میں رکھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی وراٹ کوہلی دنیا کے بہترین بلے باز ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پونٹنگ کا کہنا ہے کہ کوہلی کو ابھی بہت کچھ ثابت کرنا ہے

پونٹنگ سے جب پوچھا گیا کہ کیا کوہلی دنیا کے سب سے بہتر بیٹسمین ہیں، تو انھوں نے کہا کہ شاید ہاں۔

انھوں نے گلف نیوز کو بتایا کہ 'میرا خیال ہے کہ شاید یہ چھ یا سات ماہ کی بات ہے۔ اب وہ اس سے آگے نکل چکے ہیں۔'

42 سالہ پونٹنگ نے یہ بھی کہا کہ کوہلی کو ابھی بہت کچھ ثابت کرنا ہے اور سچن تندولکر کے ساتھ کوہلی کا موازنہ کرنا جلدبازی ہوگی، کوہلی کو عظیم کرکٹر کہنا جلد بازی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم لوگ ہمیشہ سچن، لارا اور کیلس کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ انھوں نے 120، 130 اور 135 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔ وراٹ تو ابھی آدھا بھی نہیں کھیل پائے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں