’میچ دیکھ لیں تو تھکاوٹ اتر جائے گی‘

شارجہ

دبئی سے شارجہ زیادہ دور نہیں لیکن اگر کرکٹ کی بات کی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ دونوں شہر اس معاملے میں ایک دوسرے سے کافی دور ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کا میلہ اب شارجہ میں سج چکا ہے اور یہاں کے رہائشی بھی اس کو لوٹنے پر تیار نظر آتے ہیں۔

میچ شروع ہونے سے کئی گھنٹے پہلے ہی شارجہ کرکٹ سٹیڈیم کے ٹکٹ کاؤنٹرز پر لوگوں کا رش لگ جاتا ہے۔

کچھ تو کرکٹ کے ایسے شوقین ہیں جو دن بھت محنت مزوری کرتے ہیں اور شام کو سیدھے سٹیڈیم پہنچتے ہیں تاکہ ٹکٹ حاصل کر سکیں اور شاید یہاں سے میچ دیکھنے کے بعد دوبارہ مزدوری پر چلے جائیں۔

شارجہ میں جمعرات کو کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کے درمیان میچ مقامی وقت شام آٹھ بجے شروع ہونا ہے لیکن شائقین دوپہر کو ہی ٹکٹ لینے کے لیے سٹیڈیم پہنچ گئے۔

ٹکٹ کاؤنٹر پر لگی قطار میں شامل بشارت اگرچہ پشاور زلمی کے سپورٹر ہیں لیکن میچ دیکھنے کے شوق میں وہ سٹیڈیم کے باہر ٹکٹ کاؤنٹر پر قطار میں لگے ہوئے اس بات سے قطع نظر کہ ان کی ٹیم آج نہیں کھیل رہی۔

کرکٹ دیکھنے اور خاص طور پر پاکستانی کھلاڑیوں کو غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھنے کا شوق ان کو شارجہ کرلٹ سٹیڈیم لایا ہے۔ کئی گھنٹوں کی محنت مزدوری کے بعد ہونے والی ٹھکاوٹ کے باوجود تھکاوٹ ان کو سٹیڈیم پہنچنے سے روک نہیں سکی۔

خیبر پختونخوا کے علاقے دیر سے تعلق رکھنے والے بشارت کے مطابق وہ صبح چھ بجے کام کے لیے نکلے تھے اور وہاں سے فارغ ہوتے ہی یہاں میچ دیکھنے پہنچ گئے ہیں۔

لیکن میچ میں تو ابھی بہت دیر ہے اور اتنی جلدی آنے پر انھوں نے کہا کہ 'ہم جہاں رہتے ہیں وہ جگہ بہت دور ہے اس لیے وہاں جا کر واپس نہیں آ سکتے۔ اس لیے اب چار گھنٹے یہیں انتظار کریں گے کیونکہ کرکٹ کا شوق ہی ایسا ہے۔'

بشارت کو قطار میں زیادہ دیر کھڑا ہونا نہیں پڑا اور جلد ہی ان کو ٹکٹ مل گئی۔ لیکن قطار میں کھڑے ارشد کی پریشانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

ارشد کو جمعے کو ہونے والے پشاور زلمی کا میچ دیکھنا تھا۔ لیکن اس میں مشکل یہ تھی کہ جمعے کو چھٹی ہونے کی وجہ سے شائقین کی ایک بڑی تعداد ٹکٹ پہلے ہی حاصل کر چکی تھی۔

'ایک تو جمعہ ہے یعنی چھٹی کا دن لوگ ویسے ہی زیادہ میچ دیکھنے آتے ہیں اور دوسرا پشاور زلمی کا میچ ہے۔ پشاور زلمی کا جس دن میچ ہو تو کام کاج سے کتنی ہی تھکاوٹ کیوں نہ ہو میچ دیکھنا لازم ہے۔ پشاور زلمی کو کھیلتے دیکھ کر ساری تھکاوٹ اتر جاتی ہے۔'

ارشد نے مزید کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جمعہ کے میچ کی تمام ٹکٹیں فروخت ہو چکی ہیں اور شہر میں مزید ٹکٹ دستیاب نہیں۔ 'اسی لیے میں میں اپنا کام کاج چھوڑ کر سیدھا سٹیڈیم چلا آیا ہوں۔ صبح سے ہر جگہ جا چکا ہوں لیکن پشاور زلمی کے میچ کی ٹکٹ نہیں مل رہے اور جو ٹکٹ مل رہے ہیں وہ بہت مہنگی ہیں۔ پر کیا کریں میچ تو دیکھنا ہے اس لیے کوشش کر رہا ہوں کہ ٹکٹ مل جائے۔'

ٹکٹ کاؤنٹر سے کچھ فاصلے پر ثاقب کریم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سستا رہے تھے۔ ثاقب نے بتایا کہ وہ جس جگہ مزدوری کرتے ہیں وہاں کے کچھ ساتھی بھی ان کے ہمراہ آئے ہیں جو انڈین اور بنگلہ دیشی ہیں۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے امین نے کہا کہ 'میں کل بھی اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان میچ دیکھنے آیا تھا کیونکہ کل ہمارا پلیئر محمود اللہ کھیلے تھے۔ شارجہ میں دن بھر محنت کرنے کے بعد تھکاوٹ اتارنے اور دل بہلانے کے لیے یہاں اور تو کچھ ہے نہیں اس لیے میں میچ دیکھنے آتا ہوں۔'

لیکن ساتھ ہی کھڑے مکیش نے مسکراتے ہوئے کہا کہ 'آئی پی ایل میں پاکستانی نہیں اور پی ایس ایل میں انڈین نہیں۔ لیکن کرکٹ تو کرکٹ ہے۔ اچھا میچ ہو تو دن بھر کی تھکن ختم ہو جاتی ہے اور تمام پریشانیاں بھول جاتا ہوں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں