’ڈی ویلیئرز انڈین ہوتے تو ان کے نام پر مندر ہوتے‘

ڈی ولیئرز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ڈی ویلیئرز اس سیزن کا اپنا پہلا میچ کھیل رہے تھے

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے معروف بلے باز اے بی ڈی ویلیئرز کی کنگز الیون پنجاب کے خلاف اننگز رائل چیلنجرز بنگلور کو میچ تو نہیں جتوا سکی لیکن انھوں نے سوشل میڈیا پر شائقین کا دل ضرور جیت لیا ہے۔

انڈین پریمیئر لیگ کے دسویں سیزن کے دوران پیر کو کنگز الیون پنجاب اور رائل چیلنجرز بنگلور کے درمیان کھیلے گئے میچ میں اے بی ڈی ویلیئرز نے 46 گیندوں پر نو چھکوں کی مدد سے 89 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی تھی۔

ان کی اس اننگز کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بعض شائقین کا کہنا تھا کہ وہ صرف اے بی ڈی ویلیئرز کی وجہ سے ہی آئی پی ایل دیکھتے ہیں جبکہ بعض کا کہنا تھا کہ ’ڈی ویلیئرز کسی دوسرے سیارے سے آئے ہیں۔‘

ایک صارف نے انڈیا کے کرکٹ فینز کی عقیدت اور ڈی ویلیئرز کی صلاحیت کے متعلق لکھا ’ڈی ویلیئرز اگر انڈین ہوتے تو ان کے نام پر مندر بن جاتے، لوگ ان کی پوجا کرنے لگتے۔‘

ڈی ویلیئرز کے علاوہ ان کی ٹیم کے باقی بیٹسمین 74 گیندوں پر محض 55 رنز ہی بنا سکے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشن

لال دائرے میں سفید نقطے کو دکھایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ چاند نہیں ڈی ولیئرز کا چھکا ہے

ٹی وی اینکر @gauravkapur لکھتے ہیں: 'یہ شخص کچھ اور ہی ہے۔'

@SirJadeja کے اکاؤنٹ سے ایک تصویر پوسٹ کی گئی اور لکھا گیا: 'یہ چاند نہیں ہے۔ یہ ڈی ویلیئرز کا چھکا ہے جو چاند پر گیا۔'

rajatgarg123@ نے ڈی ویلیئرز کے بارے میں لکھا: 'انڈیا کے سارے بیٹسمین اوور ریٹیڈ ہیں، اصل بیٹسمین تو یہ ہے۔'

ٹوئٹر ہینڈل aagamgshah@ نے لکھا: 'بیٹنگ ٹیلنٹ میں اگر دھونی بچے ہیں تو کوہلی جواں مرد ہیں اور ڈی ویلیئرز لیجنڈ ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

ڈی ولیئرز اپنے مخصوص جارحانہ انداز کے لیے معروف ہیں

کنگز الیون پنجاب اور رائل چیلنجرز بنگلور کے درمیان اس میچ کی خاصیت یہ رہی کہ کم سکورنگ میچ کے باوجود اس میں کل 20 چھکے لگے۔

خیال رہے کہ یہ اے بی ڈی ویلیئرز کا اس سیزن میں پہلا میچ تھا اور انھیں کرس گیل کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔

سرکاسٹک ڈیوڈ کے نام سے ایک صارف نے ٹوئٹر پر لکھا: 'اگر یہ کھیل انفرادی طور پر کھیلا جاتا تو ڈی ویلیئرز اسے 20-25 رنز کے فرق سے جیت لیتے۔'