پاکستانی کرکٹرز افغان ٹی ٹوئنٹی لیگ نہیں کھیل سکیں گے

کرکٹ

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے کرکٹرز کو افغانستان میں ہونے والی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں حصہ لینے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے ۔

یاد رہے کہ افغانستان میں 18 جولائی سے شروع ہونے والی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں شریک مختلف فرنچائزز نے پانچ پاکستانی کرکٹرز کامران اکمل، عمراکمل، بابراعظم، سہیل تنویر اور رومان رئیس کی خدمات حاصل کی تھیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے کرکٹرز، کوچز اور امپائرز کو این او سی جاری نہیں کر رہا کیونکہ وہاں سکیورٹی کی صورتحال بہت خراب ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ قدم افغانستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے دونوں ملکوں کے درمیان آئندہ ماہ ہونے والی دو میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کی منسوخی کے اعلان کے بعد اٹھایا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرکٹ روابط گذشتہ دنوں کابل میں ہونےوالے بم دھماکے کے بعد متاثر ہوئے ہیں۔

اس واقعے کے بعد افغانستان کرکٹ بورڈ نے فوری طور پر پاکستان کے ساتھ کرکٹ سیریز منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا حالانکہ دونوں کرکٹ بورڈز نے گذشتہ ہفتے ہی دو طرفہ سیریز اور کھیل کے دوسرے شعبوں میں تعاون کا اعلان کیا تھا۔

افغانستان نے کابل میں ہونے والے بم دھماکے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ پاکستان نے اس الزام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔