مے ویدر نے کارنر مک گریگر کو شکست دے کر اپنی 50 ویں جیت حاصل کی

باکسنگ میچ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مے ویدر اپنے 50ویں مقابلے میں بھی ناقابل شکست رہے

پانچ بار کے ورلڈ چیمپیئن امریکہ کے معروف باکسر فلوئیڈ مے ویدر نے اپنے حریف کونر مک گریگر کو دسویں راؤنڈ میں شکست دی اور اس طرح وہ اپنے 50 ویں مقابلے میں بھی ناقابل شکست رہے۔

لاس ویگاس میں ہونے والا یہ میچ باکسنگ کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا اب تک کا سب سے زیادہ رقم والا مقابلہ تھا۔

یہ مقابلہ لاس ویگس کے ٹی موبائل ایرینا میں ہوا جس کے آغاز میں یو ایف سی (الٹیمیٹ فائٹنگ چیمپیئن شپ) کے ابھرتے ہوئے معروف باکسر کونر مک گریگر نے مے ویدر پر تابڑ توڑ حملے کیے۔

کونر کا یہ پہلا پیشہ ور میچ تھا جنھوں نے اپنی پہنچ کے مطابق زبردست کوششیں کیں لیکن دسویں راؤنڈ میں بالآخر جیت تجربے اور شعور کی ہوئی جس میں مے ویدر کی صلاحیت اور تجربہ کام آيا۔

پہلے ہی راؤنڈ میں کونر نے ایک شاندار اپر کٹ لگا کر اپنے حریف کے زیر کرنے کی کوشش کی۔ ان کا انداز بھی ٹھیک تھا لیکن لڑائی کے دوران ایسا کم ہی لگا کہ وہ مے ویدر جیسے تجربہ کار باکسر کو مات دے پائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کئی معروف ہستیاں میچ دیکھنے پہنچی تھیں

امریکی باکسر مے ویدر عالمی مقابلوں سے ریٹائر ہو چکے تھے لیکن اس فائٹ کے لیے دس کروڑ ڈالر کی انعامی رقم رکھی گئی تھی جس کے لیے رنگ میں وہ پھر واپس آئے۔ اس مقابلے کے لیے وہ ایک منصوبے کے ساتھ میدان میں اترے تھے اور اسے بڑی خوبی سے سر انجام دیا۔

مےویدر کو اس فائٹ سے ممکنہ طور کل ملا کر 30 کروڑ ڈالر آمدن کی توقع ہے۔

آخری راؤنڈ میں جب آئرلینڈ کونر تھک گئے تو اس وقت مے ویدر نے ان پر دباؤ بڑھانا شروع کیا اور نويں راؤنڈ میں تو وہ اپنے حریف کا پیچھا کرتے نظر آئے۔ اس مرحلے پر مے ویدر کے بیشتر کامیاب شاٹ کی بدولت کارنر کے پیر لڑکھڑانے لگے۔

دسویں راؤنڈ میں تو کونر بس رسّی کے آس پاس ہی رہے اور اب ان سے کچھ بھی نہیں ہو پارہا تھا۔ ریفری نے اس وقت فائٹ کو روکنا مناسب سمجھا اور اس طرح میچ ختم ہو گيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ممکن ہے کہ بعض لوگوں کو ریفری رابرٹ بائرڈ کا یہ قدم تھوڑا جل بازی والا لگا ہو کیونکہ ابتدا میں کونر نے جو کوششیں کی تھی اس سے سکور بورڈ پر یہی لگتا تھا کہ وہ مقابلے میں جمے ہوئے ہیں۔

لیکن 29 سالہ باکسر میں اب دم خم نہیں رہ گيا تھا اور وہ لڑ کھڑا رہے تھے۔ ان کی کوششوں کو تو سراہا جانا چاہیے لیکن مے ویدر کا شعور اور ان کی ناقابل شکست صفت ان کے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی برقرار رہی۔

جن لوگوں نے یہ میچ دیکھا وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے تاریخ رقم ہوتے ہوئے دیکھی کیونکہ اس مقابلے میں ہی مے ویدر نے راکی مارکینیو کا 49 مقابلوں کا ریکارڈ توڑا اور اپنے 50 ویں میچ بھی ناقابل شکست رہے۔

انعامی رقم کے لحاظ سے بھی یہ اب تک کا سب سے بڑا میچ تھا۔ اس دیکھنے کے لیے بروس ولس اور جینیفر لوپیز جیسی شخصیات بھی سٹیڈیم میں موجود تھیں۔

تاہم بعض لوگوں نے اس بات پر تنقید کی ہے کہ ٹکٹ بےحد مہنگا تھا جس کی وجہ سے 20 ہزار گنجائش والے سٹیڈیم میں صرف 14 ہزار کے قریب لوگ ہی موجود تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں