’شرجیل جانتے تھے کہ وہ کس سے ملنے جا رہے ہیں‘

شرجیل خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کرکٹ بورڈ کے تین رکنی ٹریبونل نے سپاٹ فکسنگ میں ملوث شرجیل خان کے بارے میں تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ 30 اگست کو شرجیل خان پر پانچ سالہ پابندی عائد کیے جانے کا مختصر فیصلہ سنایا گیا تھا۔

60 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شرجیل خان نے پاکستان سپر لیگ کے افتتاحی میچ میں دو گیندیں (جن پر رنز نہیں بنے) بک میکر سے طے شدہ منصوبے کے تحت کھیلی تھیں۔

سپاٹ فکسنگ: ’شرجیل خان پر پانچ سال کی پابندی عائد‘

شرجیل خان نے فکسنگ کی یا نہیں، فیصلہ بدھ کو

شرجیل خان اور خالد لطیف پر فرد جرم عائد

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شرجیل خان نے نو اور دس فروری کی درمیانی رات آئی سی سی ہیڈ کوارٹر میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کے حکام کے سامنے اپنے بیان میں یہ انکشاف کیا تھا کہ گذشتہ سال ویسٹ انڈیز کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی سیریز کے دوران خالد لطیف نے ان سے فکسنگ کے طریقوں کے بارے میں گفتگو کا آغاز کیا تھا۔

شرجیل خان نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دورے میں بھی خالد لطیف ان سے مستقل رابطے میں رہے تھے۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شرجیل خان نے آئی سی سی ہیڈ کوارٹر میں ریکارڈ کرائے گئے اپنے بیان میں یہ اعتراف بھی کیا کہ انھیں یہ معلوم تھا کہ وہ دبئی میں کس سے ملنے جارہے ہیں۔

تفصیلی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شرجیل خان نے 17 فروری کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر میں ریکارڈ کرائے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ خالد لطیف نے ان سے یہ کہا کہ کرکٹر ناصر جمشید کا اصرار ہے کہ ہمیں اس شخص سے ملنا چاہیے جو ان (ناصر جمشید) کا دوست ہے۔

شرجیل خان نے اپنے بیان میں یہ بات بھی تسلیم کی کہ خالد لطیف نے ان سے یہ بھی کہا کہ ناصر جمشید نے اپنے جس دوست سے ملنے کا کہا ہے وہ اچھی ساکھ کا حامل نہیں ہے۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شرجیل خان کا ایک شخص کے کردار کے بارے میں جانتے ہوئے بھی اس سے ملنا پاکستان کرکٹ بورڈ کے الزام کو تقویت دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شرجیل خان کے بقول خالد لطیف نے ان سے فکسنگ کے طریقوں کے بارے میں گفتگو کا آغاز کیا تھا

تفصیلی فیصلے میں شرجیل خان کی یوسف انور نامی اس شخص سے ملاقات اور اس میں فکسنگ کے طے کیے گئے تمام معاملات کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ، آئی سی سی اور برطانوی کرائم ایجنسی کے پاس اس بارے میں ایک جیسی معلومات موجود تھیں جو بالکل درست ثابت ہوئیں۔

ٹریبونل نے اس تاثر کو بھی یکسر مسترد کر دیا ہے کہ شرجیل خان کسی پرستار سے ملنے دبئی کے ایک کیفے میں گئے تھے۔

ٹریبونل کا کہنا ہے کہ یہ کسی پرستار سے ملاقات ہرگز نہیں تھی کیونکہ عام طور پر کوئی بھی کرکٹر کسی پرستار سے ملنے کا انتظار نہیں کرتا۔ عام طور پر کرکٹر پرستاروں سے ملنے نہیں جاتے بلکہ پرستاروں میں کرکٹروں سے ملنے کا اشتیاق پایا جاتا ہے۔

ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ شرجیل خان کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا پورا موقع فراہم کیا گیا لیکن وہ ٹریبونل کے سامنے صفائی کے لیے پیش نہیں ہوئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں