ورلڈ الیون میں بھارتی کھلاڑی بھی ہوتے تو اچھا ہوتا: شاہد آفریدی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'یہ ہر پاکستانی کے لیے اہم موقع ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کے رکے ہوئے سلسلے کو دوبارہ جاری کرنے کی کوششیں کامیاب ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں جس کا سہرا پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین نجم سیٹھی اور ان کی پوری ٹیم کے سرجاتا ہے۔'

عالمی شہرت یافتہ آل راؤنڈر شاہد آفریدی ورلڈ الیون کے پاکستان آنے سے بہت خوش ہیں اور وہ اسے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارتی کرکٹرز بھی اس ورلڈ الیون میں ہوتے تو بہت اچھا ہوتا۔

شاہد آفریدی نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کرکٹ کی محبت میں لاہور آئے ہیں اور پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان بارہ ستمبر کو ہونے والا پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ دیکھیں گے۔

’یہ ہر پاکستانی کے لیے اہم موقع ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کے رکے ہوئے سلسلے کو دوبارہ جاری کرنے کی کوششیں کامیاب ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں جس کا سہرا پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین نجم سیٹھی اور ان کی پوری ٹیم کے سرجاتا ہے۔‘

شاہد آفریدی نے کہا کہ ورلڈ الیون کے اس دورے سے دنیا میں ایک مثبت پیغام جائے گا کہ پاکستان امن اور پیار ومحبت کی جگہ ہے اور یہاں کے لوگ کرکٹ سے پیار کرتے ہیں اور وہ کرکٹرز کو اپنے سامنے دیکھنا چاہتے ہیں۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ ہمیں آئی سی سی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جس نے اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی مکمل حمایت کی۔ ’پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بالکل ہونی چاہیے ۔اس کی کمی یہاں شدت سے محسوس کی جارہی تھی اور یہاں کے گراؤنڈز صحیح استعمال نہیں ہورہے تھے۔‘

شاہد آفریدی نے کہا کہ اچھا ہوتا اگر اس ورلڈ الیون میں بھارت کے بھی ایک دو کرکٹرز شامل ہوتے اس سے دنیا کو اچھا پیغام جاسکتا ہے کیونکہ کھیلوں کے ذریعے بڑے بڑے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ شاہد آفریدی کی بین الاقوامی کرکٹ گزشتہ سال ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد اختتام کو پہنچ چکی ہے اور اب وہ پاکستان سپر لیگ اور انگلش کاؤنٹی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

اسی بارے میں