ویلکم بیک ہوم کرکٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پچھلے آٹھ سال میں زمبابوے کے سوا کسی فل ممبر نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔

پاکستان کے لیے صرف انٹرنیشنل کرکٹ ہی کیوں ناگزیر ہے؟ اور بھی تو کھیل ہیں۔

ہاکی بھی تو ہے جس نے ہمیں چار ورلڈکپ دیے۔ ویسے بھی کرکٹ اپنی تنہائی میں اکیلی تھوڑی ہے۔ جیسی تشنگی سے یہ دوچار ہے، ویسی ہی پیاس دیگر کھیلوں کو بھی تو ہے۔ تو پھر ایسا کیا ہے کہ کرکٹ ہی کی بحالی ہماری عالمی ساکھ کا مسئلہ بن چکا ہے۔

چلیے پی سی بی کو تو یہ غرض ہوگی کہ اس کے ہوم گراونڈز آباد ہوں اور ریونیو کی ریل پیل شروع ہو۔سرحد پار بھی تو ایک کرکٹ بورڈ ہی ہے جو دنیا کی سب سے بڑی سپورٹس مارکیٹ پہ اپنی دھاک جمائے بیٹھا ہے۔ سو پی سی بی کے لیے تو گویا بقا کا راز ہی یہ ہے کہ پاکستان کے میدان آباد ہوں۔

مگر جب پورے ملک کا پہیہ ایک سپورٹس ایونٹ کی طرف مڑ جائے اور ریاستی سربراہان کی سی سکیورٹی کرکٹ کھلاڑیوں کے لیے وقف کر دی جائے تو بات صاف ہو جاتی ہے کہ مسئلہ صرف ایک ادارے کی انا کا نہیں ہے۔ آخر کچھ تو ہے کہ جو ’ادارے‘ عام حالات میں ’ٹکراتے‘ رہتے ہیں، کرکٹ کی خاطر اچانک شانہ بشانہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔

اور عوام الناس ہیں کہ انٹرنیشنل کرکٹ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے گھنٹوں دھوپ میں رک کر ٹکٹیں خریدتے ہیں۔ میلوں دور پارکنگ سے پیدل چلتے ہیں، تہہ در تہہ سکیورٹی کے حصاروں کو عبور کرتے ہیں، اور اپنا خون پسینہ بہا کر قذافی سٹیڈیم کی ایک نشست فتح کرتے ہیں۔

اس ایک نشست تک کے پر اسرار سفر اور اس ایک ایک انٹرنیشنل میچ کے گرد ہماری مجموعی قومی کاوش کی تہہ میں کئی کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ کہیں کوئی پینتیس سالہ نوجوان ہو گا جو آج سے تیس سال پہلے شاید وسیم اکرم بننا چاہتا تھا، کہیں کوئی جھریوں والا چہرہ ہو گا جو عمران خان کے کرئیر کے اتار چڑھاو میں ہی جوان ہوا، کہیں کوئی ادھیڑ عمر شخص ہو گا جسے بانوے کا ورلڈ کپ یوں یاد ہے جیسے کل کی بات تھی۔

پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں کرکٹ سٹارڈم صرف کھیل کی حد تک ہی محدود نہیں رہتا۔ یہاں کئی نسلیں کرکٹ کے گرد پلی بڑھی ہیں۔ عمران خان پاکستان کرکٹ کے سب سے بڑے سٹار ہیں اور دنیائے کرکٹ آج بھی ان کی قدر کرتی ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طبقے میں وہ آج سب سے زیادہ مقبول ہیں، اس کی اکثریت وہ ہیں جنہوں نے ان کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اس دنیا میں آنکھ کھولی۔ مگر اس کرکٹ سٹارڈم کی تاثیر صرف ایک نسل تک ہی محدود نہیں رہی۔

پاکستان سے انٹرنیشنل کرکٹ کے دیے بجھے آٹھ برس بیت چکے۔ پچھلے آٹھ سال میں زمبابوے کے سوا کسی فل ممبر نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ آخری بار جب پاکستان اپنے ہوم گراونڈ پہ کھیلا تھا تو ون ڈے میں تیز ترین سینچری کا ریکارڈ پاکستان کے پاس تھا، ون ڈے میں طویل ترین انفرادی اننگ کا ریکارڈ سعید انور کے نام تھا۔ پچھلے آٹھ سال میں یہ دو ریکارڈ کئی بار توڑے جا چکے ہیں۔ پاکستان اپنی تاریخ کی بدترین ون ڈے رینکنگ دیکھ چکا ہے۔ اور پاکستان پہ آئی پی ایل کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔

اور اس تمام دورانئے میں پاکستان محمد عامر کے سوا کوئی سٹار پیدا نہیں کر سکا۔ کوئی کلائی سے کھیلنے والا بلے باز نہیں آیا۔ کوئی تباہ کن فاسٹ بولر نظر نہیں آیا۔

ایسا نہیں کہ ہوم گراونڈز پہ انٹرنیشنل کرکٹ ختم ہونے کے بعد پاکستان نے کرکٹ میں کچھ حاصل نہیں کیا۔ اسی دور میں بے شمار ریکارڈز بھی پاکستان نے ہی توڑے، پے در پے تاریخ بھی رقم کی، نمبرون ٹیم تک تو بنا، مگر سٹارز پیدا نہیں کر پایا۔

کسی بھی سپورٹنگ ہیرو کے ارتقا پہ نظر ڈالیے تو اس کے پیچھے ایک بڑا ہیرو چھپا ہوتا ہے۔ اگر ایک نسل وسیم اکرم جیسا جادوگر دیکھتی ہے تو اس وجہ سے کہ پچھلی نسل عمران خان کو دیکھ چکی ہوتی ہے۔ اگر راولپنڈی کے گراونڈ میں کبھی وقار یونس نے تباہ کن بولنگ نہ کی ہوتی تو شاید دنیا کا تیز ترین بولر شعیب اختر کبھی سامنے ہی نہ آ پاتا۔

کیونکہ ہوم گراونڈز وہ ہیں جہاں آج کے ہیرو کھیلتے ہیں۔ اور ہوم کراوڈز وہ ہیں جہاں کل کے ہیرو بیٹھتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں