’دورے کا مقصد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہے‘

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Pakistan Cricket Board
Image caption ورلڈ الیون کے کپتان فاف ڈو پلیسی (دائیں جانب) اور ٹیم کے کوچ اینڈی فلاور (بائیں جانب) ٹیم جرسی کے ساتھ

پاکستان کے دورے پر آنے والی ورلڈ الیون کے کپتان فاف ڈپلوسیسی اور کوچ اینڈی فلاور کا کہنا ہے کہ اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہے اور وہ یہاں آنے پر بہت خوش ہیں۔

یہ دونوں لاہور پہنچنے کے بعد ٹیم کے ہوٹل میں پریس کانفرنس کررہے تھے۔

انڈیپنڈنس کپ: ورلڈ الیون لاہور پہنچ گئی

’ورلڈ الیون میں بھارتی کھلاڑی بھی ہوتے تو اچھا ہوتا‘

’ورلڈ الیون کا دورہ بین الاقوامی کرکٹ کی راہ ہموار کرے گا‘

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے فاف ڈپلوسیسی کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کھلاڑی صرف کرکٹ کھیلنے کے خیال سے یہاں نہیں آئے ہیں بلکہ اس کا مقصد اس سے بھی بڑا ہے۔

انھوں نے ٹیم میں زیادہ تر جنوبی افریقی کھلاڑیوں کی موجودگی کے بارے میں کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جنوبی افریقی ٹیم کی اس وقت کوئی بین الاقوامی مصروفیت نہیں ہے اس لیے کھلاڑی دستیاب تھے۔

فاف ڈپلوسیسی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان آکر بہت خوش ہیں ۔ یاد رہے کہ اس سے قبل وہ دو ہزار پانچ میں جنوبی افریقی انڈر نائنٹین ٹیم کے ساتھ بھی پاکستان آئے تھے ۔

ورلڈ الیون کے کوچ اینڈی فلاور کی پاکستان کے ساتھ خوشگوار یادیں وابستہ ہیں وہ 1998 میں پاکستان میں ٹیسٹ سیریز جیتنے والی زمبابوے کی ٹیم کا حصہ تھے جبکہ وہ پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں پشاور زلمی سے بھی وابستہ رہے۔

اینڈی فلاور کے بھائی گرانٹ فلاور تین سال سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ ہیں۔

اینڈی فلاور کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جن کے پیارے دہشت گردی کی نذر ہوگئے اور یہی دہشت گردی ہے جس کی وجہ سے انٹرنیشنل کرکٹ پاکستان سے دور ہوتی چلی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نجم سیٹھی (بائیں جانب) اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے جائلز کلارک (دائیں جانب) لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران

اینڈی فلاور نے کہا کہ پاکستانی شائقین کو ورلڈ الیون کی شکل میں عصر حاضر کے چند بہترین کرکٹرز کو اپنے سامنے کھیلتا دیکھنے کا موقع ملے گا ۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم متوازن ہے اور وہ پاکستانی شائقین کے سامنے اپنی بہترین کرکٹ کھیلنے کے لیے پرجوش ہے۔

اینڈی فلاور نے کہا کہ پاکستان اپنے یہاں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کے باوجود ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی نمبر ایک پوزیشن تک پہنچا جبکہ اس نے چیمپئنز ٹرافی بھی جیتی جس سے پاکستان کی اس کھیل کی شاندار روایت اور ٹیلنٹ کی عکاسی ہوتی ہے۔

اس سے قبل پریس کانفرنس میں پاکستان سے متعلق آئی سی سی کی ٹاسک فورس کے سربراہ جائلز کلارک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ الیون کا دورہ ٹیم ورک کا نتیجہ ہے ۔

'دراصل یہ ابتدا ہے ۔ جہاں تک غیرملکی ٹیموں کے پاکستان کے ممکل دوروں کا تعلق ہے اس کا انحصار غیرملکی ٹیموں کی بین الاقوامی مصروفیات پر بھی ہوگا۔'

جائلز کلارک نے مزید کہا کہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لاہور میں انعقاد سے ورلڈ الیون کے اس موجودہ دورے کی راہ آسان ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ الیون میں شامل کھلاڑی جب اپنے ممالک واپس جائیں گے تو یقیناً اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو ا پنے اس دورے کے تجربات سے آگاہ کریں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین نجم سیٹھی نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ یہ پاکستان کے لیے بہت بڑا دن ہے۔'اگر یہ دن نہ آتا تونہ جانے ہمیں مزید کتنے سال انٹرنیشنل کرکٹ کی پاکستان میں واپسی کے لیے انتظارکرنا پڑتا۔'

نجم سیٹھی نے کہا کہ ہمیں زمبابوے کو نہیں بھولنا چاہیے جنہوں نے دو سال قبل پاکستان میں آکر انٹرنیشنل کرکٹ کی کھڑکی کھولی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں