پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان پہلا ٹی20 میچ آج

لاہور تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قذافی سٹیڈیم کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں

پاکستان اور ورلڈ الیون کی ٹیم کے مابین تین میچوں کی سیریز کے پہلے ٹی 20 انٹرنیشنل میچ میں دونوں ٹیمیں منگل کو لاہور میں مدمقابل آ رہی ہیں۔

اس سلسلے کے اگلے دو میچ لاہور ہی میں 13 اور 15 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔

دونوں ٹیموں کی تیاریاں مکمل ہیں اور دونوں کپتان جیت کے لیے پرعزم دکھائی دے رہے ہیں۔

٭ ورلڈ الیون آسان حریف نہیں ہے: سرفراز احمد

٭ ’دورے کا مقصد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہے‘

سرفراز احمد پہلی بار ہوم گراؤنڈ پر کسی انٹرنیشنل میچ میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبد الرشید شکور کے مطابق پاکستانی ٹیم میں شامل صرف پانچ کرکٹرز سرفراز احمد، احمد شہزاد، عماد وسیم، سہیل خان اور شعیب ملک اس سے قبل پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کھیل چکے ہیں۔

ورلڈ الیون میں شامل کرکٹروں میں ہاشم آملا، تمیم اقبال اور پال کولنگ ووڈ اس سے قبل پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیل چکے ہیں۔

فاسٹ بولر محمد عامر کی خدمات پاکستانی ٹیم کو حاصل نہیں ہوں گی۔ وہ بیٹی کی ولادت کی وجہ سے اس وقت انگلینڈ میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دونوں ٹیموں کی تیاریاں مکمل ہیں اور دونوں ٹیموں کو سخت مقابلے کی امید ہے

آئی سی سی میچ ریفری ویسٹ انڈیز کے رچی رچرڈسن اس سیریز کو سپروائز کریں گے جبکہ علیم ڈار اور احسن رضا پہلے میچ کے امپائر ہیں۔

علیم ڈار پاکستان میں پہلی بار کسی ٹی 20 انٹرنیشنل میں امپائرنگ کر رہے ہیں۔ پاکستان دو سال کے بعد انٹرنیشنل میچوں کی میزبانی کر رہا ہے۔

مئی 2015 میں پاکستان نے زمبابوے کے خلاف تین ون ڈے انٹرنیشنل اور دو ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں کی میزبانی لاہور میں کی تھی۔

اس سیریز کے لیے شائقین میں غیرمعمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے تاہم سب سے کم مالیت کے ٹکٹ کی عدم دستیابی کے سبب شائقین میں مایوسی پائی جاتی ہے۔

اس میچ کے سلسلے میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

ورلڈ الیون کی کپتانی کرنے والے جنوبی افریقہ کے کپتان فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ سکیورٹی کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ کسی فلم میں ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption تین میچوں کی یہ سیریز پاکستان میں گھریلو کرکٹ کی بحالی کا ضامن ہو سکتی ہے

قذافی سٹیڈیم اور ٹیم ہوٹل سکیورٹی کے سخت حصار میں ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکار سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔

سکیورٹی کے ان سخت انتظامات کی وجہ یہ ہے کہ اسی لاہور شہر میں آٹھ سال قبل سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے۔

اس سیریز کو ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس دورے کے خوش اسلوبی کے ساتھ مکمل ہونے کی صورت میں سری لنکا کی ٹیم آئندہ ماہ لاہور میں ایک ٹی 20 انٹرنیشنل کھیلے گی اور پھر نومبر میں ویسٹ انڈیز کے پاکستان آ کر تین ٹی 20 میچ کھیلنے کا انحصار بھی ورلڈ الیون کے اسی دورے کی کامیابی پر ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں