تیسرا ٹی 20، سیریز کسی کی بھی ہوسکتی ہے

  • عبدالرشید شکور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور

،تصویر کا ذریعہEPA

پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان تیسرا اور فیصلہ کن ٹی 20 انٹرنیشنل جمعے کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلا جارہا ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے پہلا میچ 20رنز سے جیتا تھا لیکن دوسرے میچ میں ورلڈ الیون کی سات وکٹوں کی جیت سے سیریز کا فیصلہ اب تیسرے میچ میں ہونا ہے۔

دوسرے میچ میں پاکستانی ٹیم کی شکست نے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو خاصا مایوس کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم میچ کے آخری پانچ اوورز بہت خراب کھیلی۔ فیلڈنگ بہت بری رہی ایک انتہائی اہم کیچ لانگ آف پر ڈراپ کیا گیا جبکہ غیرضروری رنز بھی دے ڈالے۔

مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم 174 رنز کا دفاع کرسکتی تھی تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی بولنگ اٹیک نسبتاً ناتجربہ کار تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دے رہے ہیں تاکہ دیکھ سکیں کہ وہ دباؤ میں کس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں اور یہ مواقع ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے آئندہ بھی دیے جائیں گے۔

مکی آرتھر نے سہیل خان کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سہیل خان نے بہت محنت کی ہے اور وہ ٹیم میں شامل کیےجانے کے مستحق تھے۔ ان کی فٹنس بھی بہت بہتر نظرآرہی ہے۔

مکی آرتھرکا کہنا ہے کہ اس وقت فخرزمان، احمد شہزاد، بابراعظم اور شعیب ملک چار بہترین بیٹسمین ہیں۔ ایسے میں اگر ہم عمرامین کو پانچویں نمبر پرکھلاتے ہیں تو ہمیں ایک بولر کم کرنا پڑے گا۔ سرفراز احمد اس وقت پانچویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہیں لیکن بینچ پر بیٹھے کھلاڑیوں کو وقت ملنے پر ضرور مواقع ملیں گے۔

مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ فاسٹ بولر حسن علی کو تیسرے میچ میں کھلانے کا فیصلہ میچ سے قبل کیا جائے گا جو دوسرا میچ کمر کی تکلیف کے سبب نہیں کھیلے تھے۔