حدیبیہ کیس دوبارہ کھولنے کے لیے نیب کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چونکہ پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں نئے حقائق سامنے آئے ہیں اس لیے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قومی احتساب بیورو کے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا جائے۔

قومی احتساب بیورو نے شریف فیملی کے خلاف حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے۔

نیب حکام کی طرف سے بدھ کے روز دائر کی جانے والی اس درخواست میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، حمزہ شہباز کے علاوہ شمیم اختر اور صاحبہ شہباز کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ اس اپیل میں نیب حکام کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ اور پھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے حقائق کو دیکھے بغیر فیصلے دیے۔

اس درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چونکہ پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں نئے حقائق سامنے آئے ہیں اس لیے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قومی احتساب بیورو کے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا جائے۔

اس درخواست میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیب کی طرف سے مقررہ وقت میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے سے متعلق قانونی قدغن کو بھی ختم کیا جائے۔

پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران نیب کے حکام نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ وہ حدیبہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے جبکہ اس سے پہلے نیب کے چیئرمین نے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کو واضح الفاظ میں بتایا تھا کہ وہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہیں کریں گے۔

حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا اعترافی بیان بھی قابل ذکر ہے جس میں اُنھوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ شریف بردران کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں