مصباح اور یونس کے بغیر نئی ابتدا، نیا چیلنج

مصباح تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ابوظہبی میں جمعرات سے شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ سے مصباح الحق اور یونس خان کے رخصت ہونے کے بعد یہ پاکستانی ٹیم کا پہلا ٹیسٹ میچ ہے۔

یونس خان اور مصباح الحق ایک طویل عرصے تک پاکستانی بیٹنگ لائن کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے ہیں۔ ان دونوں کی شاندار کارکردگی پاکستانی ٹیم کی متعدد یادگار فتوحات میں کلیدی کردار ادا کرتی آئی ہے۔

مصباح الحق اور یونس خان نے ایک ساتھ 67 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے جن میں سے پاکستان نے 25 ٹیسٹ میچز جیتے 25 میں ہی اسے شکست ہوئی اور 17 ٹیسٹ ڈرا ہوئے۔

ان دونوں نے ایک ساتھ کھیلتے ہوئے ان 67 ٹیسٹ میں 10889 رنز سکور کیے ہیں جن میں32 سنچریاں اور 53 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

مصباح الحق نے جب مارچ 2001 میں نیوزی لینڈ کے خلاف آکلینڈ میں اپنے ٹیسٹ کریئر کی ابتدا کی تھی تو یونس خان اس ٹیسٹ میں موجود تھے اور دونوں اننگز میں شاندار بیٹنگ کرتے بالترتیب 91 اور 149 ناٹ آؤٹ سکور کیے تھے۔ تاہم مصباح الحق کے لیے اولین ٹیسٹ کامیاب ثابت نہ ہوسکا تھا اور وہ دونوں اننگز میں صرف 28 اور دس رنز ہی بنا سکے تھے۔

یونس خان نے اپنے ٹیسٹ کریئر کا اختتام پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین کے طور پر کیا ہے جبکہ مصباح الحق ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیسٹ میچز جیتنے والے کپتان کی حیثیت سے میدان سے رخصت ہوئے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان و کوچ وقاریونس کا کہنا ہے کہ یہ پاکستانی کرکٹ کی خوش قسمتی تھی کہ اسے ایک ہی وقت میں دو ورلڈ کلاس کرکٹرز میسر آئے۔

’یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ مصباح اور یونس کی شکل میں دو ورلڈ کلاس بیٹسمین ایک ہی دور کا حصہ تھے اور انھوں نے طویل عرصے پاکستانی کرکٹ کی خدمت کی لیکن ظاہر ہے کہ ہر کسی نے اپنی کرکٹ ختم کرنی ہوتی ہے ۔ان دونوں کے جانے کے بعد دوسرے کھلاڑیوں کے لیے موقع ہے کہ وہ پرفارمنس دیں اور ان دونوں بڑے کھلاڑیوں کی جگہ ُپر کریں۔‘

مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سرفراز احمد کو سونپی گئی ہے اس طرح وہ ایک نئے تجربے سے آشنا ہونے والے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس سے قبل وہ نو ون ڈے اور 11 ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں میں قیادت کی ذمہ داری نبھا چکے ہیں۔ سرفراز احمد ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرنے والے پاکستان کے پانچویں وکٹ کیپر ہیں۔

ان سے قبل امتیاز احمد، وسیم باری، راشد لطیف اور معین خان وکٹ کیپر کی حیثیت سے ٹیسٹ میچوں میں قیادت کرچکے ہیں۔

سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ مصباح الحق اور یونس خان ورلڈ کلاس کرکٹرز رہے ہیں جن کے جانے کے بعد ان کا خلا ُپر کرنے میں وقت لگے گا لیکن چند کھلاڑی ایسے ضرور موجود ہیں جو ان کی جگہ ُپر کرسکتے ہیں۔

سرفراز احمد مصباح الحق کے جانے کے بعد قیادت کو بھی اپنے لیے ایک بہت بڑا امتحان سمجھتے ہیں۔

’مصباح الحق پاکستان کے سب سے کامیاب کپتان تھے۔ میری کوشش بھی یہی ہوگی کہ جس طرح انھوں نے فتوحات حاصل کیں اور سب کھلاڑیوں کو ساتھ لے کر چلے۔ میں بھی اسی طرح یہ ذمہ داری نبھاؤں۔‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ مصباح الحق اور یونس خان کے وسیع تجربے کی کمی یقیناً محسوس ہوگی لیکن یہی وقت ہے کہ اظہرعلی اور اسد شفیق ان کی جگہ ذمہ داری سنبھالیں اور ساتھ ہی نوجوان کھلاڑیوں کی بھی رہنمائی کریں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں