کوئی دباؤ محسوس نہیں کررہا: اسد شفیق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مصباح الحق اور یونس خان کے جانے کے بعد تمام تر نظریں اظہرعلی اور اسد شفیق پر مرکوز ہیں کہ وہ کس طرح یہ ذمہ داری نبھاتے ہیں۔

ہیڈ کوچ مکی آرتھر کاکہنا ہے کہ یہ بڑی زیادتی ہوگی کہ ٹیم میں آنے والے نئے بیٹسمینوں کو مصباح الحق اور یونس خان کا متبادل سمجھ لیا جائے۔یہ ذمہ داری اظہرعلی اسد شفیق اور کسی حد تک بابراعظم پر عائد ہوتی ہے ۔

مصباح اور یونس کے بغیر نئی ابتدا، نیا چیلنج

اسد شفیق پاکستانی ٹیم کے دو ورلڈ کلاس بلے بازوں کے جانے کے بعد اب مڈل آرڈر بیٹنگ کی اہم ذمہ داری نبھانے کے لیے پوری طرح دکھائی دیتے ہیں۔

’میں کوئی دباؤ محسوس نہیں کررہا ہوں۔ اظہرعلی، میں اور سرفراز ہم تین کرکٹرز ہیں ایسے ہیں جو مصباح الحق اور یونس خان کے ساتھ کافی عرصہ کھیل چکے ہیں اور ہمیں پچاس ساٹھ ٹیسٹ ایک ساتھ کھیلنے کا تجربہ بھی ہے۔ مصباح الحق اور یونس خان کی کمی یقیناً محسوس ہوگی لیکن کوشش کریں گے کہ زیادہ ذمہ داری سے کھیلتے ہوئے ان کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔‘

اظہر علی پچھلے چند برسوں سے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔ گذشتہ سال انھوں نے ایک ٹرپل اور ایک ڈبل سنچری کی مدد سے ٹیسٹ کرکٹ میں تقریباً بارہ سو رنز بنائے تھے جبکہ اس سال بھی وہ عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے چار ٹیسٹ میچوں میں دو سنچریاں بناچکے ہیں لیکن اسد شفیق کی کارکردگی اتارچڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔

اسد شفیق نے گذشتہ سال انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہونے کی تلافی اوول ٹیسٹ میں سنچری سے کی تھی لیکن ویسٹ انڈیز کے خلاف شارجہ ٹیسٹ میں وہ ایک بار پھر دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے تھے۔

اسد شفیق نے آسٹریلیا کے خلاف برسبین ٹیسٹ میں ایک سو سنتیس رنز کی جو اننگز کھیلی تھی وہ اگرچہ پاکستان کو جیت سے ہمکنار نہ کرسکی لیکن چار سو نوے کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کو چار سو پچاس رنز تک لے آئی تھی۔

اس اننگز کے بعد سے اسد شفیق ایک بار پھر بڑے اسکور کی تگ ودو میں مصروف ہیں اور اپنی آخری نو اننگز میں وہ صرف ایک نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔

اسد شفیق نے مصباح الحق اور یونس خان کی موجودگی میں زیادہ تر چھٹے نمبر پر بیٹنگ کی ہے اور اس میں کامیاب رہے ہیں لیکن گذشتہ سال تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے وہ زیادہ کامیاب نہیں رہے تھے۔اب ٹیم منیجمنٹ انہیں دوبارہ بیٹنگ آرڈر میں اوپر کے نمبر پر کھلانے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

’ٹیم کے ساتھ ایک دو نئے کھلاڑی بھی ہیں تو ٹیم کامبینیشن بنانے کے لیے میں اوپر کے نمبر پر بیٹنگ کروں گا۔‘

اس بات کے بھی امکانات روشن دکھائی دیتے ہیں کہ اظہرعلی جو پچھلے سال سے اوپنر کی حیثیت سے قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں اپنی پرانی ون ڈاؤن پوزیشن پر بیٹنگ کریں گے۔

اسی بارے میں