ابوظہبی ٹیسٹ: پہلے دن کا کھیل ختم، سری لنکا کے چار وکٹوں پر 227 رنز

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پہلے دن کے اختتام تک دونوں ٹیموں کا پلڑا برابر رہا

متحدہ عرب امارت میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز ہوا جہاں سری لنکا نے ٹاس جیت کی پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور پہلے دن کے اختتام تک چار وکٹوں کے نقصان پر 227 رنز بنائے۔

کھیل ختم ہونے تک سری لنکا کے کپتان چندی مل اپنی نصف سنچری مکمل کر کے 60 رنز پر کھیل رہے تھے جبکہ ان کا ساتھ دینے والے ڈک ویلا 42 رنز بنا کر کریز پر موجود تھے۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

مصباح اور یونس کے بغیر نئی ابتدا، نیا چیلنج

سرفراز کا ایک نیا امتحان آج سے

چائے کے وقفے کے بعد کرونارتنے 93 رنز بنا کر رن آؤٹ ہو گئے جب ان کے ساتھ کپتان چندی مال کی توجہ رن لینے کے بجائے گیند کو دیکھنے میں تھی۔ مگر اس کے بعد ڈک ویلا نے پاکستانی بولرز کی تھکاوٹ اور سخت گرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جارحانہ انداز اپنایا اور ان دونوں نے آخری سیشن میں 84 رنز سکور کیے۔

آج صبح جب کھیل کا آغاز ہوا تو سری لنکا نے اپنی اننگز محتاط انداز میں شروع کی۔

پاکستان کو پہلی کامیابی 34 کے مجموعی سکور پر ملی جب حسن علی نے کوشل سلوا کو بولڈ کر دیا، انھوں نے 12 رنز بنائے۔ اس کے اگلے ہی اوور میں یاسر شاہ نے تھریمنے کو صفر پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا، یہ یاسر شاہ کی 150ویں ٹیسٹ وکٹ تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کھانے کے وقفے سے قبل یاسر شاہ نے مینڈس کو دس کے انفرادی سکور پر آؤٹ کر کے پاکستان کو تیسری کامیابی دلا دی۔

کھانے کے وقفے سے پہلے شراکت شروع کرنے کے کرونارتنے اور کپتان چندی مل نے چائے کے وقفے تک اپنی 82 رنز کی ناقابل شکست رفاقت قائم کرتے ہوئے ٹیم کا سکور 143 رنز تک پہنچا دیا۔

دن کے بیشتر حصے میں پاکستانی بولرز نے سری لنکا کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا لیکن وہ وکٹ لینے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حسن علی اچھی بولنگ کے باوجود بدقسمت رہے

حسن علی نے بالخصوص شاندار سپیل کیا لیکن متعدد ایجز نکلنے کے بعد بھی وہ ناکام رہے۔

کرونارتنے نے اپنی نصف سنچری مکمل کی اور پاکستان کے خلاف اپنا عمدہ ریکارڈ جاری رکھا۔

ابوظہبی کے شیخ زید سٹیڈیم میں کھیلے جا رہے میچ میں پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق اور سٹار بلے باز یونس خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد پہلی بار ٹیم سرفراز احمد کی قیادت میں میدان میں اتری ہے۔

دوسری جانب دنیش چندی مل کی قیادت میں سری لنکا کی ٹیم کو بھی سینیئر بیٹسمین کمار سنگار کارا کی خدمات حاصل نہیں ہیں۔

پاکستان نے اپنی آخری ٹیسٹ سیریز ویسٹ انڈیز میں 2-1 سے اپنے نام کی تھی جبکہ سری لنکا کو حال ہی میں انڈیا کے ہاتھوں اپنے ہی گھر میں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کی جانب سے سرفراز احمد پہلی مرتبہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں (فائل فوٹو)

پاکستان اور سری لنکا کے مابین اب تک کل 51 ٹیسٹ میچ کھیلے گئے ہیں جن میں 19 میں پاکستان نے فتح حاصل کی، 14 میں سری لنکا نے کامیابی حاصل کی جبکہ 18 بے نتیجہ ختم ہوئے۔

پہلے ٹیسٹ کے ایک امپائر ای این گلڈ پیٹ کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے اس میچ کے امپائرز پینل میں تبدیلی کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ آئی سی سی نے ابوظہبی ٹیسٹ کے لیے ای این گلڈ اور نائجل لانگ کو فیلڈ امپائرز جبکہ رچرڈ کیٹل برا کو ٹی وی امپائر مقرر کیا تھا لیکن اب نائجل لانگ اور کیٹل برا میدان میں امپائرنگ کریں گے جبکہ پاکستان کے احسن رضا ٹی وی امپائر کے فرائض انجام دیں گے۔

زمبابوے کے اینڈی پائی کرافٹ اس سیریز کے لیے آئی سی سی میچ ریفری مقرر کیے گئے ہیں۔

پاکستانی ٹیم: اظہر علی، بابر اعظم، اسد شفیق، سرفراز احمد (کپتان، وکٹ کیپر)، محمد عامر، حسن علی، یاسر شاہ، شان مسعود، سمیع اسلم، حارث سہیل، محمد عباس۔

سری لنکا ٹیم: دمتھ کرانارتنے، کوشل سلوا، کوسل مینڈس، دنیش چندی مل (کپتان)، لاہرو تھریمنے، نروشن ڈک والا، لکشن سنداکان، رنگنا ہیراتھ، سورنگا لکمل، نوان پردیپ، دلروان پریرا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں