متحدہ عرب امارات میں پاکستان کا ریکارڈ خطرے میں

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا اور آخری ٹیسٹ آج سے دبئی میں شروع ہو رہا ہے۔

یہ سری لنکن ٹیم کا پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ ہے جو وہ گلابی گیند سے کھیلے گی۔

پاکستانی ٹیم کا یہ تیسرا ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ ہے۔ اس سے قبل اس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دبئی اور آسٹریلیا کے خلاف برسبین میں گلابی گیند کے ساتھ ٹیسٹ میچ کھیلے تھے۔

تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ ٹیم کا تھا : اظہرعلی

ہیرتھ کے خلاف جارحانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے: مصباح الحق

سری لنکی کی پہلے ٹیسٹ میچ 21 رنز سے فتح

سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستانی ٹیم ایک صفر کے خسارے میں ہے۔

ابوظہبی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو 21 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد پاکستان کا متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ خطرے میں ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم متحدہ عرب امارات میں ابھی تک کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری ہے۔ اس نے یہاں پانچ ٹیسٹ سیریز جیتی ہیں جبکہ چار برابری پر ختم ہوئی ہیں۔

پاکستان نےیہ تمام کی تمام نو ٹیسٹ سیریز مصباح الحق کی قیادت میں کھیلی تھیں۔

اگر سری لنکا نے یہ ٹیسٹ سیریز جیت لی تو پاکستانی ٹیم سات سال بعد پہلی مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں ساتویں نمبر پر چلی جائے گی۔ اس وقت پاکستانی ٹیم کی ٹیسٹ میچوں میں عالمی رینکنگ چھٹی ہے۔

پاکستانی ٹیم میں ان فٹ حسن علی کی جگہ وہاب ریاض کو شامل کیا گیا ہے۔

مرلی کے سائے سے نکل کر رنگانا ہیرتھ اپنی پہچان آپ

یہ یاسر شاہ اور رنگانا ہیرتھ کی سیریز ہے؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق کے مطابق پاکستانی ٹیم کو سری لنکن سپنر رنگانا ہیرتھ کے خلاف اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی ہوگی اور ان کے خلاف جارحانہ کھیل کھیلنا ہوگا۔

مصباح الحق نے دبئی میں بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا سیریز سے قبل یہ بات سب کو معلوم تھی کہ رنگانا ہیرتھ پاکستانی ٹیم کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ وہ ایک ایسے بولر ہیں جو دنیا کے تجربہ کار بلے بازوں کے خلاف بھی مشکلات پیدا کردیتے ہیں جبکہ پاکستان کی موجودہ بیٹنگ لائن ابھی تجربہ کار نہیں ہے۔ پاکستانی بلے بازوں کو ان کے خلاف اٹیکنگ کرکٹ کھیلنی ہوگی۔

یاد رہے کہ رنگانا ہیرتھ نے ابوظہبی ٹیسٹ میں 11 وکٹیں حاصل کر کے سری لنکا کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں